میں جانتا ہوں ترے جسم کو ہرا کرنا

میں جانتا ہوں ترے جسم کو ہرا کرنا
سو میری آنکھ کی دستک پہ دل کشا کرنا
تمہارے پاس بھی کہنے کو کوئی بات نہیں
تمہیں تو آتا تھا ہر بات پر گِلا کرنا
اسے یقین دلانا کہ میں تمہارا ہوں
پھر اس فریب میں خود کو بھی مبتلا کرنا
وہاں بھٹکتی ہوئی آتمائیں رہتی ہیں
بدیس جاتے ہوئے مجھ سے رابطہ کرنا
میں اپنے کام سے عزت کما کے آتا ہوں
تم اتنی دیر تلک خیر کی دعا کرنا
بہنام احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے