میں جہاں تھا وہیں رہ گیا معذرت

میں جہاں تھا وہیں رہ گیا معذرت
اے زمیں معذرت اے خدا معذرت
کچھ بتاتے ہوئے کچھ چھپاتے ہوئے
میں ہنسا معذرت رو دیا معذرت
خود تمہاری جگہ جا کے دیکھا ہے اور
خود سے کی ہے تمہاری جگہ معذرت
جو ہوا جانے کیسے ہوا کیا خبر
جو کیا وہ نہیں ہو سکا معذرت
میں کہ خود کو بچانے کی کوشش میں تھا
ایک دن میں نے خود سے کہا معذرت
مجھ سے گریہ مکمل نہیں ہو سکا
میں نے دیوار پر لکھ دیا معذرت
میں بہت دور ہوں شام نزدیک ہے
شام کو دو صدا شکریہ معذرت
ذوالفقار عادل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے