میں جاگوں ساری رین سجن تم سو جاؤ

میں جاگوں ساری رین سجن تم سو جاؤ

گیتوں میں چھپا لوں بین سجن تم سو جاؤ

شام ڈھلے سے بھور بھئے تک جاگ کے جب کٹتی ہے گھڑیاں

مدھر ملن کی اوس میں بس کر کھلتی ہیں جب جیون کی کلیاں

آج نہیں وہ رین سجن تم سو جاؤ

پھیکی پڑ گئی چاند کی جیوتی دھندلے پڑ گئے دیپ گگن کے

سو گئیں سندر سیج کی کلیاں سو گئے کھلتے بھاگ دلہن کے

کھل کر رولیں نین سجن تم سو جاؤ

جاگ کے تن کی اگنی سو گئی بڑھ کے تھم گئی من کی ہلچل

اپنا گھونگھٹ آپ الٹ کر کھول دی میں پاؤں کی پائل

اب ہے چین ہی چین سجن تم سو جاؤ

ساحرؔ لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے