میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا۔۔۔۔!!!
فرید ٹاون ساہیوال کے اجلے محلے کی چھوٹی سی مارکیٹ سے سورج کا زوال سہ پہری باتیں کر رہا تھا۔ حجام کی دکان میں سیاہ فام کرسی پر بیٹھا میں بال کٹنے کے نغمے سے مدہوش ہو رہا تھا کیونکہ حجام کے ہاتھوں میں قینچی کی چڑیا چہچہا رہی تھی۔ میں اس چڑیا سے خاموش باتیں کر رہا تھا:
” اے ری چڑیا”
"بن کی چڑیا۔۔۔۔۔۔!!!”
کبھی ترنگ میں آ کر حجام قینچی کی رفتار بڑھاتا تو سیاہ بالوں کی کترن میرے سینے کے گرد لپٹے سفید لٹھے کا رنگ گہناتی۔ قینچی کی چہچہاہٹ جھنکار میں بدل جاتی۔
” پڑوسن کے نلکے پہ یہ چوڑیاں جو چھنکنے لگی ہیں۔۔۔۔”
یہ مئی 1974 کا واقعہ ہے۔ گیسو تراش کی کمپوزیش جاری تھی کہ چرچراتا دروازہ کھول کر ایک صاحب دکان میں آئے۔ میں نے آئینے میں دیکھا کہ وہ پیچھے بنچ پر بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگے۔ کچھ ورق گردانی کے بعد اخبار کو سامنے میز پر رکھ کر حجام سے بولے:
” یار
یہاں قریب میں ایک شاعر تھا وہ مر گیا ہے۔
مجید امجد
کئی دنوں سے مرا ہوا تھا، کسی کو علم ہی نہ ہوا، اکیلا جو رہتا تھا۔ بو کی وجہ سے اڑوس پڑوس والے چوکنے ہوئے۔۔۔۔۔ جھنگ کا تھا، لاش جھنگ چلی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!!!”
کنگھی کی تال پر چلتی قینچی کی دھن جو بھیرویں میں تھی، ماروے میں رونے لگی۔
میں 1974 میں میٹرک میں تھا۔ 1971 سے 1974 تک مجید امجد روزانہ سائیکل پر ہمارے گھر کے سامنے سے دو بار گزرتے تھے۔ ایک بار جاتے ہوئے اور دوسری بار سٹیڈیم ہوٹل سے واپس آتے ہوئے۔ کیونکہ ہمارا گھر راہ میں پڑتا تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ مجید امجد ہیں۔ ہمارے اردو کے استاد شریف حجازی صاحب نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ اردو نظم کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ یہ بھی بتایا تھا کہ مشہور نہیں ہیں۔ یہ بھی سمجھایا تھا کہ بڑے خود بخود مشہور ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی کہا تھا کہ میٹرک کے کورس میں ان کی کوئی نظم نہیں مگر کلاس کو مجید امجد کی نظمیں اس لئے پڑھائی گئیں کہ طلبا کو نظم کا اصل ذائقہ محسوس ہو۔
تو جب وہ روزانہ سہ پہر کو ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتے تو میں انہیں سلام کرتا اور وہ بہت محبت سے جواب دیتے۔ میں سکول کا طالبعلم اس سے زیادہ ان سے اور کیا مکالمہ کر سکتا تھا۔ میرا ان سے یہی روحانی رشتہ ہے۔ میں انہیں بہت پیار کرتا ہوں۔
تو حجام کی دھن ماروا ٹھاٹھ میں رونے لگی۔ میرے سینے کے گرد لپٹا سیاہ لٹھا کفن کفن سا لگنے لگا، اس میں کافور کی بھاری مہک جاگ اٹھی۔ بالوں کی کترن ہماری معاشرتی بے حسی اور سرد مہری کی طرح کورا رنگ گہنا رہی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اسی شام آل انڈیا ریڈیو نے مجید امجد پر قریب آدھ گھنٹے کا براہ راست پروگرام نشر کیا تھا اور بہت دکھ سے اعلان کیا تھا کہ اے اہل جہاں، شاعر مر گیا ہے۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں مر گیا ہے۔ اپنے میڈیا پر میں نے کوئی خاص خبر ان کے بارے میں نہیں سنی تھی۔
ایک حقیر نذرانہ عقیدت میں نے مجید امجد صاحب کے قدموں میں رکھا:
” اجلی اجلی سڑکوں پر، اک گرد بھری حیرانی میں”
ساہیوال میں ہم نے ان کی سائیکل روکی
اور مجید امجد سے کہا:
سائیکل، موٹرسائیکل رکھنا
کاروں اور جہازوں پر آنا جانا
تو
ہم جیسے چھوٹے لوگوں کی مجبوری ہے
آپ مجید امجد ہیں
آپ تو سورج کی کرنوں پہ بھی آ جا سکتے ہیں۔
وہ یہ سن کر اپنی سائیکل سے اترے
اور ہنس کر بولے:
” بیٹا
ہم ان اینٹوں کے ہم عصر ہیں، جن پر تم چلتے ہو”
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے