میں گفتگو ہوں کہ تحریر کے جہان میں ہوں

میں گفتگو ہوں کہ تحریر کے جہان میں ہوں
مجھے سمجھ تو سہی میں تری زبان میں ہوں
خود اپنی سانس کہ رکتی ہے اپنے چلنے سے
یہ کیا گھٹن ہے میں کس تنگ سے مکان میں ہوں
جلا رہا ہے مرے جسم کو مرا ہی کمال
میں ایک تیر ہوں ٹوٹی ہوئی کمان میں ہوں
گزر رہی ہے مرے سر سے گاہکوں کی نگاہ
ذرا سی چیز ہوں لیکن بڑی دکان میں ہوں
مرے قریب سے گزرا نہیں ہے سنگ تراش
مجسمہ ہوں میں اب تک مگر چٹان میں ہوں
مجھی میں گونج رہی ہے مرے سخن کی صدا
نوائے گرم ہوں میں دشت بے زبان میں ہوں
عدیمؔ بیٹھا ہوا ہوں پروں کے ڈھیر پہ میں
خوش اس طرح ہوں کہ جیسے کسی اڑان میں ہوں
عدیم ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے