میں دل کے ہاتھوں گرفتار ہو کے نکلی تھی

میں دل کے ہاتھوں گرفتار ہو کے نکلی تھی
محبتوں کی پرستار ہو کے نکلی تھی
مرے ہی دام لگانے پہ تل گئے کچھ لوگ
میں بس خوشی کی خریدار ہو کے نکلی تھی
وہ ایک خواب کے بدلے میں لے گیا نیندیں
میں جس کے پیار میں لاچار ہو کے نکلی تھی
تمام شہر مرا ہاتھ تھامنے آیا
میں اپنے آپ سے بیزار ہو کے نکلی تھی
مرے نصیب پہ سایہ رہا اماوس کا
میں چاندنی کی طلبگار ہو کے نکلی تھی
پڑے ہیں چہرے پہ بےرحم وقت کے چھینٹے
اگرچہ زندگی تیار ہو کے نکلی تھی
قدم قدم پہ نشانہ بنی زمانے کا
جو مثلِ رونقِ بازار ہو کے نکلی تھی
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے