میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں

میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں
یہ سوچ لو کہ میں رستہ بدل بھی سکتا ہوں

تمہارے بعد یہ جانا کہ میں جو پتھّر تھا
تمہارے بعد کسی دم پگھل بھی سکتا ہوں

قلم ہے ہاتھ میں کردار بھی مرے بس میں
اگر میں چاہوں کہانی بدل بھی سکتا ہوں

مری سرشت میں ویسے تو خشک دریا ہے
اگر پکار لے صحرا ابل بھی سکتا ہوں

اُسے کہو کہ گریزاں نہ یوں رہے مجھ سے
میں احتیاط کی بارش میں جل بھی سکتا ہوں

عزیز نبیل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے