میں بچ کے پھر سے نکل آیا

میں بچ کے پھر سے نکل آیا ”بیس“کے سن میں
ذرا سا دیکھوں تو!کیا کچھ ہے میرے دامن میں
نیا ہے سال مگر ہر طرف اُداسی ہے
شجر کی شاخ، نشیمن کے خوں کی پیاسی ہے
کلی کو کھلنے کا موقع نہیں یہاں حاصل
مہکنے کے لئے پھولوں کا دِل نہیں مائل
نیا یہ سال اگر موسمِ بہاراں ہے
خزاں کے دست میں پھر گل کا کیوں گِریباں ہے
کیوں اِقتدار کے نشّہ میں چور ہے گلچیں
تمام صحنِ چمن خوں سے کیوں ہوا رنگیں
میں گمشدہ ہوں، مری جستجو مجھی کو ہے
کیوں رُسوا کرتی مری آبرو مجھی کو ہے
کیوں باغباں مری عزت اُچھالنے کے لئے
تُلا ہوا ہے چمن سے نکالنے کے لئے
تو کون ہے تجھے ہر گز میں جانتا ہی نہیں
اے باغباں ترا قانون مانتا ہی نہیں
مرا لہو بھی چمن کی زمیں میں شامل ہے
انانیت تری میری نظر میں باطل ہے
ہر ایک رنگ کے گُل اِس چمن میں کھلتے ہیں
برادرانِ وطن مجھ پہ جاں چھڑکتے ہیں
اے سالِ نو! میں اِسی گلستاں کا سُنبُل ہوں
عزیزؔسب کا ہوں،ہندوستاں کا بلبل ہوں
٭٭٭

نئے سال کا استقبال
عزیز بلگامی،بنگلور(انڈیا)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے