میں اور تم

یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم
مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے
کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

کچی راہوں میں چلتے تھے، پھسلتے تھے، سنبھلتے تھے
کتنا خود کو تھکاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

بوندیں چہروں پہ مَلتے تھے، کیسے کیسے بہلتے تھے
حدوں کو بھول جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

عمر جو سنگ گزاری تھی، وہی بس خوشگواری تھی
رنگیں ہر پَل بناتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

ہجر کا روگ ہے اب تو، یہ موسم سوگ ہے اب تو
کبھی ہنستے ہنساتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

طارق اقبال حاوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے