میں اپنی خاک گراتا رھا سمندر میں

میں اپنی خاک گراتا رھا سمندر میں
اور ایک دشت بناتا رہا سمندر میں

نمک کا ذائقہ مٹی کو خوش نہ آتا تھا
میں اپنے اشک ملاتا رہا سمندر میں

اسی کے پیر کی زنجیر ہو گیا پانی
جو دوسروں کو بچاتا رہا سمندر میں

نمو پذیر اب اس کی ہتھیلیوں میں ہوں میں
جو میری راکھ بہاتا رہا سمندر میں

میں ناؤ کھینچتا ساحل پہ آگیا اسعد
ادھورا گیت بلاتا رہا سمندر میں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے