میں اپنے فن سے ترا ذائقہ بدل لوں گا

میں اپنے فن سے ترا ذائقہ بدل لوں گا
اگر یہ ہو نہ سکا مشغلہ بدل لوں گا
کسی بھی شرط پہ منزل نہیں بدلنے کا
زیادہ تو جو کہے راستہ بدل لوں گا
کسی کے دل میں زرا سا ملال گزرا تو
علم کو چھوڑ کے میں قافلہ بدل لوں گا
پرانا ربط نئے زاویے سے مت دیکھو
میں اپنی سوچ کا پھر زاویہ بدل لوں گا
یہ اپنے عکس پہ حیرت نہیں گورا مجھے
یہی رہا تو میں پھر آئینہ بدل لوں گ
دیے کا طاق سے، جو دل کا تیری یاد سے ہے
میں ایک روز یہی سلسلہ بدل لوں گا
مرا ارادہ تو صائب اٹل حقیقت ہے
یہ تیرا وہم کہ میں حوصلہ بدل لوں گا
صدیق صائب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے