محو – گریہ ہے فلک جانے کہاں گم ہو گئیں

محو – گریہ ہے فلک جانے کہاں گم ہو گئیں
تیز بارش میں ہماری چھتریاں گم ہو گئیں
یہ اچانک کیا پڑی افتاد اہل – باغ پر
پھول سوکھے پڑ گئے اور تتلیاں گم ہو گئیں
آئینہ زادی تری آنکھوں کے جادو کیا ہوئے
اے حسینہ کیوں تری انگڑائیاں گم ہو گئیں
ماں نہیں موجود تو بچھڑے ہوئے بچوں کا دکھ
اس شجر سے پوچھو جس کی ٹہنیاں گم ہو گئیں
اتنا مشکل بھی نہیں ہے چومنا مہتاب کو
مسئلہ یہ ہے کہ میری سیڑھیاں گم ہو گئیں
تیرے ہونٹوں سے بھی تیرے قہقہے جاتے رہے
میرے ہاتھوں سے بھی میری تالیاں گم ہو گئیں
ورنہ یہ دولت پڑی رہتی تھی میری جیب میں
رش میں آتے ہی مری تنہایاں گم ہو گئیں
چل بےنہیں سکتا تھا عاطف میں سہارے کے بغیر
پھر اچانک کیوں مری بیساکھیاں گم ہو گئیں
عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے