محو رقص وصال تھا کیا تھا

محو رقص وصال تھا کیا تھا
وہ سراپا غزال تھا کیا تھا
صبح روشن کسی کے ہونٹوں کا
رنگ کچھ کچھ جو لال تھا کیا تھا
بزم جاں میں بہت تھی خاموشی
جانے اس کا خیال تھا کیا تھا
ایک جلتا ہوا نشیمن تھا
وہ مرے حسب حال تھا کیا کیا تھا
شعریت ڈھل رہی تھی صورت میں
یا وہ رقص جمال تھا کیا تھا
نیلؔ چشم حزیں میں یہ بتلا
تھی وہ وحشت ملال تھا کیا تھا
نیل احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے