محبوب تیرا عشق

میں کیسے تباہ ھو گیا اس سوچ میں گم ھوں
محبوب تیرا عشق تباہی تو نہیں تھا ؟

دل کیسے سیاہ ہو گیا اس کھوج میں گم ہوں
ہر لفظ محبت کا سیاہی تو نہیں تھا؟
محبوب تیرا عشق ، تباہی تو نہیں تھا؟

خوش ہو محبتیں کسی زنداں میں ڈال کر
اندر سے مزاج آپ کا شاہی تو نہیں تھا؟
محبوب تیرا عشق تباہی تو نہیں تھا ؟

خوابوں میں بہت بار میں رویا تیرے لئیے
یہ وقت سے پہلے کی اگاہی تو نہیں تھا؟
محبوب تیرا عشق تباہی تو نہیں تھا؟

رگ رگ میں دوڑتا تھا کبھی،عشق ،عشق ،عشق
اجڑا ھوں کوئی غضب الٰہی تو نہیں تھا؟
محبوب تیرا عشق تباہی تو نہیں تھا؟

سلطانہ ناز 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔