محبسِ خواب میں تعبیر نہیں کھلتی تھی

محبسِ خواب میں تعبیر نہیں کھلتی تھی
آنکھ کھلتی تھی تو زنجیر نہیں کھلتی تھی

میں بھی گردن کو اٹھانے کا روادار نہ تھا
اس کے ہاتھوں میں بھی شمشیر نہیں کھلتی تھی

وہ جو بارش میں بنا کرتی تھی دیواروں پر
کچھ مکانوں پہ وہ تصویر نہیں کھلتی تھی

خاک پر خاک کا ہر رنگ کھلا جاتا تھا
خاک پر خاک کی تاثیر نہیں کھلتی تھی

سنگ ریزوں کی طرح لفظ اڑے جاتے تھے
لکھنے والوں پہ بھی تحریر نہیں کھلتی تھی

آخرش رکھنا پڑا شام کی سیڑھی پہ دیا
کچھ کواکب پہ وہ تنویر نہیں کھلتی تھی

لحنِ داؤد پہ ایمان تو رکھتے تھے پرند
سب پہ تحریمِ مزامیر نہیں کھلتی تھی

اب وہی قصۂ یوسف کے مفسر ہوئے ہیں
جن پہ وارث کی لکھی ہیر نہیں کھلتی تھی

اس طرف اب بھی خلاؤں کی عمل داری ہے
جس طرف سرحدِ تسخیر نہیں کھلتی تھی

میں بھی اقبال کا شاہین بنا پھرتا تھا
مجھ پہ جب طاقتِ تقدیر نہیں کھلتی تھی

میں نے دستک کو چنے سرخ گلابوں کے خطوط
بابِ سرسبز کی زنجیر نہیں کھلتی تھی

صابر رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

2 comments

  • یوسف خالد

    بہت خوب بہت عمدہ اشعار ہوئے ہیں
    سنگ ریزوں کی طرح لفظ اڑے جاتے تھے
    لکھنے والوں پہ بھی تحریر نہیں کھلتی تھی

    آخرش رکھنا پڑا شام کی سیڑھی پہ دیا
    کچھ کواکب پہ وہ تنویر نہیں کھلتی تھی

    لحنِ داؤد پہ ایمان تو رکھتے تھے پرند
    سب پہ تحریمِ مزامیر نہیں کھلتی تھی

    اب وہی قصۂ یوسف کے مفسر ہوئے ہیں
    جن پہ وارث کی لکھی ہیر نہیں کھلتی تھی

    زبردست —— بہت داد سلامت رہیں

    جواب دیں
  • تحسین اقبال

    واااہ بہت عمدہ اور بھرپور غزل

    جواب دیں

تحسین اقبال کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔