مدعی مجھ کو کھڑے صاف برا کہتے ہیں

مدعی مجھ کو کھڑے صاف برا کہتے ہیں
چپکے تم سنتے ہو بیٹھے اسے کیا کہتے ہیں
دیکھے خوباں کے بجا دل نہیں رہتا ہرگز
لوگ جو کچھ انھیں کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
عشق کے شہر کی بھی رسم کے ہیں کشتے ہم
درد جانکاہ جو ہو اس کو دوا کہتے ہیں
جی اگر زلفوں کے سودے میں ترے دوں تو نہ بول
پہلی قیمت کے تئیں مشک بہا کہتے ہیں
حسن تو ہے ہی کرو لطف زباں بھی پیدا
میر کو دیکھو کہ سب لوگ بھلا کہتے ہیں
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے