محبت بدلتی رہتی ہے

محبت بدلتی رہتی ہے
مجھ جیسا شخص جو اندھیرے کا ہاتھ تھامے ہوئے زندگی کا سفر کر رہا تھا اُس کی منزل اندھیرے کے سوا کیا ہو سکتی ہے۔ یوں تو روشنی کے کئی ہاتھ میری راہ میں آئے، آگے بھی بڑھے مگر ان ہاتھوں نے میرے ہاتھ کو تھاما نہیں۔ جیسے ہزار روشن دئیوں میں ایک بجھا ہوا دیا نمایاں نظر آتا ہے سو میں بھی اندھیرے کا ہاتھ تھامے رہا۔ لیکن مجھے بھی نمایاں ہونا تھا اور پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ ایک ایک کرکے روشن دیا اندھیرے میں ڈھلنے لگا تب مجھے خود سے وحشت ہونے لگی۔
”میں نے جب بھی محبت کا اظہار کیا۔ محبت کو حاصل کرنا چاہا۔ ناکام ہوا مجھے ہارہی ملی جیسے جذبات کی کائنات میں میرا وجود کسی بلیک ہول کی مانند ہے۔ میں اپنے جنون پر مان کرتا تھا۔ اور خود ہی اپنے جنون سے ڈرتا بھی تھا۔ شائد اسی لیے میرے جنون کو میرے اندر ہی دفن کر دیا گیا۔ دل دم توڑتی خواہشوں کا اک قبرستان اور میں گورکن بن کر رہ گیا۔ میرے دل کی زمین بانجھ ہو کر رہ گئی۔ جیسے اس میں اب کوئی محبت کا پھول نہیں کھلے گا کوئی محبت کا بیج وا نہیں ہوگا۔ اور یہ سب محبت کے بدلنے سے ہوا۔ رویوں کے بدلنے سے ہوا۔ کیونکہ محبت بانٹنے والا اس کو بدلتے ہوئے کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ پھر اچانک ایک ہاتھ آسماں کی جانب اٹھا اور اس نے اپنی دعا کو آسماں کی جانب اچھالا جو دیکھتے ہی دیکھتے آسماں پر پھیل گئی پھر نور کی کرنوں کی طرح میرے بجھے ہوئے دل پر برسنے لگے۔
پھر ایک دوست کی محبت بنی اور عشق کے جلو میں سفر کرتے ہوئے جب دل کی زمین پر اتری تو اس کے قدموں کے لمس سے اندھیرا بجھنے لگا۔ اور پھر ہر طرف روشنی ہو گئی۔ محبت کے بیج وا ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے پھول کھلنے لگے۔ دل محبت کے ساز پر رقص کرتا ہوا دھڑکنے لگا۔ میں پھر سے جینے لگا اور اس دنیا سے نظریں چرانے لگا جہاں محبت بدلتی ہے۔یہاں صرف ظاہر کو مانا جاتا ہے باطن تک کسی کی رسائی نہیں مگر ماضی کہاں ساتھ چھوڑتا ہے۔ اندھیرا بانٹنے والا روشنی کو عام کرے کوئی کیسے تسلیم کر سکتا ہے اس طرح کون جیا ہے ایسے کون مر سکتا ہے سو سب نے بغاوت کی۔ یہ دیکھ کر یہ سوچ کر آج بھی جینے کو من نہیں کرتا مگر اس دوست کی دعا جس سے یہ دل محبت کے پاکیزہ جذبے سے منور ہوا، جینے پر اکساتی ہے۔
میں آپ سے پوچھتاہوں، آپ ہی بتاؤ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہم دوسروں کے لیے تو راہیں متعین کرتے ہیں مگر جب خود پر وقت آتا ہے تو سب فیصلے بدل دیتے ہیں۔ کوئی کسی کے جذبات کو کچلتا ہے تو ہم احتجاج کرتے ہیں اور جب خود کسی کے جذبات کو کچلتے ہیں تو کسی احساس کو بھی پاس نہیں پھٹکنے دیتے بے حس ہو جاتے ہیں ایسا کیوں؟
پھول اپنی خوشبو کے لیے کیوں نہیں بکھر سکتا؟خوشبو ہوا کا محتاج کیوں ہے؟ پانی پہاڑوں کو تو توڑ سکتا مگر خود سے لڑتا ہے تو ایک کیوں ہو جاتا ہے؟ بادل برستے ہیں تو بدلتی رتوں کو زمیں میں دفن کیوں نہیں کرتے؟ منزل دور جانے کے بجائے پاس بھی تو آسکتی ہے، آدمی کامیابی کا ہاتھ تھام کر بھی اس سے دور کیوں رہتا ہے روشنی اندھیرے میں کیوں دفن ہوتی ہے؟ اندھیرا روشنی کو کیوں جنم دیتا ہے؟ہوا آگ کو جلاتی ہے پانی اس کو چھپاتا ہے مٹی خود میں سمو لیتی ہے کیوں؟ آخر کیوں؟ ایسا کیوں ہوتا ہے محبت کے رنگ کیوں بدل دیئے جاتے ہیں؟ جن کا اپنی زندگی پر کوئی اختیار نہیں وہ دوسروں کی زندگی اپنی مرضی سے کیوں بدلنا چاہتے ہیں؟
جس کی دعا سے محبت کا بیج آج تک ایک مضبوط شجر ہے جس کی محبت سے سانس چل رہی ہے یہ دل دھڑک رہا ہے میں اُس کے ساتھ جی نہیں سکتااس کا نام لینے سے قاصر ہوں اُس کانام لے نہیں سکتاصرف اس لیے کہ پھر اُس کی عزت کو پامال کیا جائے گا۔ اور جب وہ محبت کو بدلتا دیکھے گی تو برداشت نہیں کر سکے گی۔ اُس سے برداشت نہیں ہوگا”رشتوں کا رویوں کا محبت کا بدلنا“میں کیسے کہہ سکتا ہوں میں کیسے اُس دوست کا نام لے سکتا ہوں کیونکہ میں تو اس کرب سے گزر چکا ہوں میں کئی بار مر چکا ہوں
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے