شہروں کی طرف گاؤں سے جاتا ہوا مزدور

شہروں کی طرف گاؤں سے جاتا ہوا مزدور
مر جاتا ہے یوں رزق کماتا ہوا مزدور

سوتا ہے کسی درد کو اوڑھے ہوئے لیکن
ڈرتا ہے کوئی خواب سجاتا ہوا مزدور

اک عمر سے چمنی کا دھواں پھانک رہا ہے
بیٹی کے لیے گہنے بناتا ہوا مزدور

روتا ہے لپٹ کر یہ در و بام سے پہلے
گھر آتا ہے جب چھالے چھپاتا ہوا مزدور

کب دیکھتا ہے عکس بکھرتے ہوئے شب کا
اک صبح کا آئینہ سجاتا ہوا مزدور

بستے میں پڑے خواب جواں دیکھ رہا ہے
سوتے ہوئے بچوں کو جگاتا ہوا مزدور

سینے پہ مرے زخم بناتا ہے مسلسل
غربت کا عجب نوحہ سناتا ہوا مزدور

ڈرتا ہے کہیں شور مچا دیں نہ ہوائیں
خاموش ہے جو دیپ جلاتا ہوا مزدور

پیڑوں کی دعا لے کے نکلتا ہے یہ گھر سے
خوش رنگ پرندوں کو بلاتا ہوا مزدور

تپتے ہوئے سورج کو بھی للکار رہا ہے
اک سوچ میں گم اینٹیں اٹھاتا ہوا مزدور

بچوں کا یہ غم دیکھ نہیں سکتا ہے ارشاد
ہنس دیتا ہے جب اشک بہاتا ہوا مزدور

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔