مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے​

مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے​
کبوتر کہہ رہے تھے ہم کہانی سن رہے تھے​

میری گڑیا تیرے جگنو ہماری ماؤں کے غم​
ہم اک دوجے سے بچپن کی کہانی سن رہے تھے​

کبھی صحرا کے سینے پر بکھرتا ہے تو کیسے​
سنہرے گیت گاتا ہے یہ پانی سن رہے تھے​

گزرتی عمر کے ہر ایک لمحے کی زبانی​
محبت رائیگانی رائیگانی سن رہے تھے​

مزاج یار سے اتنی شناسائی غضب تھی​
ہم اس کی گفتگو میں بے دھیانی سن رہے تھے​

وفا کے شہر میں اک شام تھی خاموش بیٹھی​
ہم اس میں بھی کمال خوش بیانی سن رہے تھے​

دعائے آخری شب آسماں کو چھو رہی تھی​
نوید روشنی اس کی زبانی سن رہے تھے​

ہتھیلی پر رکھے پھولوں پہ جو آنسو گرے تھے​
انہی سے کوئی اذن حکمرانی سن رہے تھے​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے