پا بہ گِل رہنے کی عادت کا مزہ لیتے ہیں

پا بہ گِل رہنے کی عادت کا مزہ لیتے ہیں
خود کشیدہ سی فراغت کا مزہ لیتے ہیں

رنج و غم پہلے تو جی بھر کے کما لیتے ہیں
پھر اسی درد کی دولت کا مزہ لیتے ہیں

عشق اک کارِ اذیت ہے تو ہوگا یارو
ہم تو اس کارِ اذیت کا مزہ لیتے ہیں

ہم ہمہ وقت خیالات کے پروردہ مزاج
اپنی وحدت میں ہی کثرت کا مزہ لیتے ہیں

تجھ سے اک بار تصور میں ملاقات کے بعد
شعر بُننے کی لطافت کا مزہ لیتے ہیں

شاخِ دل تیری مہک سے جو لہک جاتی ہے
دل گرفتاں اسی مہلت کا مزہ لیتے ہیں

بے رخی اس کو دکھاتے ہوئے کچھ دیر کو ہم
ایک ہلکی سی شرارت کا مزہ لیتے ہیں

ریت کے گھر وہ بناتے ہیں کسی صحرا میں
وہ جو خود ساختہ شہرت کا مزہ لیتے ہیں

کون دلشاد ترے حال کا پرساں ہوگا
آپ ہم اپنی عیادت کا مزہ لیتے ہیں

دلشاد احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے