موت! راستہ تیرا مختصر نہیں ہوتا

موت! راستہ تیرا مختصر نہیں ہوتا
جستجوئے منزل میں اب سفر نہیں ہوتا
ایک روشنی اُس کی رہنمائی کرتی ہے
جس پہ ماں کا سایہ ہو دربدر نہیں ہوتا
زندگی کی خاطر جو زندگی کو ہارا ہو
ایسا شخص کوئی بھی معتبر نہیں ہوتا
جب سے بس گئی تیری یاد میرے سینے میں
اب وہاں سے سانسوں کا بھی گزر نہیں ہوتا
بھر دوں گا زمانے میں اپنی روشنی سے نُور
ماہتاب کو شب کا کوئی ڈر نہیں ہوتا
اپنے دل کا دروازہ کھول کر میں بیٹھا ہوں
سب اِ سی میں رہتے ہیں جن کا گھر نہیں ہوتا
قید کر لیا اُس نے اپنی سانس میں مجھ کو
شاذؔ اب میں خوشبو سا دربدر نہیں ہوتا
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے