موت مزہ چکھائےگی آج نہیں تو کل سہی

موت مزہ چکھائےگی آج نہیں تو کل سہی
غم سے ہمیں چھڑائے گی آج نہیں تو کل سہی
فصلِ نفاق ایک دن غم کی ہوا چلائے گی
دل کا دیا بجھائے گی آج نہیں تو کل سہی
بادِ خزاں اڑائے گی برگ خزاں رسیدہ کی
صحرا میں پھینک آئے گی آج نہیں تو کل سہی
کہنا ہیے جو کہ دو لوگوں کی بے رخی نہ دیکھ
بات سمجھ میں آئے گی آج نہیں تو کل سہی
اے طلعت خوش بیاں تجھے آئے گی شعر کا شعور
شاعری راس آئے گی آج نہیں تو کل سہی
طلعت سروہا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے