موت کبھی بھی مل سکتی ہے

موت کبھی بھی مل سکتی ہے لیکن جیون کل نہ ملے گا

مرنے والے سوچ سمجھ لے پھر تجھ کو یہ پل نہ ملے گا

کون سا ایسا دل ہے جہاں میں جس کو غم کا روگ نہیں

کون سا ایسا گھر ہے جس میں سکھ ہی سکھ ہے سوگ نہیں

جو حل دنیا بھر کو ملا ہے کیوں تجھ کو وہ حل نہ ملے گا

مرنے والے سوچ سمجھ لے پھر تجھ کو یہ پل نہ ملے گا

اس جیون میں کتنے ہی دکھ ہوں لیکن سکھ کی آس تو ہے

دل میں کوئی ارمان بسا ہے آنکھ میں کوئی پیاس تو ہے

جیون نے یہ پھل تو دیا ہے موت سے یہ بھی پھل نہ ملے گا

مرنے والے سوچ سمجھ لے پھر تجھ کو یہ پل نہ ملے گا

ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے