موت بے موت مارےجاٸیں گے

موت بے موت مارےجاٸیں گے
عشق سےجو گزارے جاٸیں گے
لگ رہا ہے ہمیں کہ ہم بھی اب
آگ سے ہی گزارے جاٸیں گے
چاند بھی روشنی تبھی دے گا
جب اندھیرےاُتارےجاٸیں گے
چاند کو پھر سلامی دینے کو
آسماں پر ستارے جاٸیں گے
ہم جو ڈوبےاُبھر ہی جاٸیں گے
وہ سرِ آب مارے جاٸیں گے
آج کل دشمنی سی چلتی ہے
ایک دن ہم پکارے جاٸیں گے
خاک میں مل گٸے اگر تو ہم
دیکھناپھرنکھارےجاٸیں گے
آج در یا اُمڈ رہا ہے پھر
اشک پھرنہ سہارےجاٸیں گے
عشق کا بانکپن تو دیکھو تم
آج ہم دل بھی ہارےجاٸیں گے
تیرے اَبرُو کےاک اشارے پر
جان اپنی ہی وارےجاٸیں گے
ہم بھی عاجز اُٹھاٸیں گے اپنے
سب خسارےاور مارےجاٸیں گے
ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے