موسم بدل رہا ہے

سنو جاناں
موسم بدل رہا ہے
اور موسم کے بدلنے پر
بہت سی تبدیلیاں
رونما ہونے لگی ہیں
ہواﺅں نے اپنے مزاج میں
دُھند بھر لی ہے۔۔۔
اور پیڑوں کی قسمت میں بھی
اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے
یوں موسم بدلنے پر
بہت کچھ بدلتا ہے
ہمارے لباس، انداز، مشروب
اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال
اور بہت کچھ
مگر میرے جذبات کی
حدت اور شدت آج بھی
تمھارے لئے وہی ہے
یہ کبھی نہیں بدلتی
اور شائد اسی لئے
میرے اندر کا موسم بھی
کبھی نہیں بدلتا
ہو سکے تو تم بھی اپنے شانوں پر
میری یادوں کی شال رکھنا
سنو جاناں
موسم بدل رہا ہے
چلو میرا نہ سہی
مگر اپنا خیال رکھنا
طارق اقبال حاوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے