ماٶں کی عالمی دن پر چند سطریں

آج کی پوسٹ نہ چاہتے ہوٸے بھی ”ماں“ کے بارے میں۔ ۔ ۔
بہت سے عزیز و احباب مجھ سے اکثر پوچھتے ہیں کہ ہر موضوع پر لکھتا ہوں مگر ”ماں“ پر کبھی کچھ کیوں نہیں لکھتے؟
تو ان سب کے لٸے چند سطریں قلمبند کرنا چاہونگا کہ ماں کے متعلق نہ لکھنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں بالکل آپ جیسا نہیں ہوں۔ میری یاداشت میں ماں کا چہرہ صرف تصویروں کی چھاپ کی حد تک ہے۔ مجھے سوا دو سال کی عمر میں خیرباد کہہ جانے والی ماں کیساتھ گزرا کوٸی ایک لمحہ بھی میری ننھی و کچی یاداشت میں شامل و محفوظ نہیں ہے۔
ماں کے پردہ فرمانے کے بعد جن رشتوں نے مجھے اور میری بہن کو آج نصف عمر کے اس حصے تک ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ان شامل سب سے پہلے میری دادی ہیں جو سکول کے زمانے سے لے کر آج تک اگر دفتر سے دس منٹ بھی لیٹ ہو جاٶں تو فکرمند ہو جاتی ہیں اور بار بار پوچھتی ہیں ”طاری ابھی آیا کہ نہیں“
اسکے بعد میری موجودہ والدہ ہیں جنکی موجودگی نے آج تک زندگی میں کسی بھی قسم کی دقت محسوس نہیں ہونے دی
اور پھر میری دو پھپھوٸیں ہیں جنکی توجہ اور لاڈ پیار نے مجھے علمی و عملی امور کے قابل بنایا۔ پھر اپنے اپنے گھر کی ہو گٸیں۔
میری پرورش میں شامل ان کے ساتھ میری بڑی بہن بھی ہے۔ جس نے آج تک بڑی ہونے کا حق نہیں جتلایا بلکہ ہمیشہ اسقدر نرمی اور سہمے ہوٸے لہجے سے برتاٶ کرتی آٸی کہ جیسے مجھ سے چھوٹی ہو۔
ان سب کی توجہ، محبت، ہمدردی، ذمہ داری اور صحبتوں کی بدولت میں آج کسی قابل ہوں۔
تو بھلا پھر کیسے میں کچھ ماں پر لکھوں کیونکہ ماں کو کبھی دیکھا ہی نہیں۔
ماں کے لٸے صرف مغفرت اور درجات کی بلندی کی ہی دعا کر سکتا ہوں۔
میں بالکل بھی آپ سب کے جیسا نہیں ہوں۔ بہت خوش نصیب ہوں جو جنم دے کے گزر جانے والی ماں کے بعد بھی ان سب ”مذکورہ بالا“ رشتوں کی صورت میں ماں کے پیار کا حقدار ٹھہرا۔
اللہ پاک ان تمام رشتوں کو جو میری دل کی دھڑکن ہیں، اچھی صحت اور داٸمی خوشیوں والی زندگی نصیب فرماٸے۔ آمین

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے