موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا

موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا
آنکھوں میں اک سراب ہے دریا بنا ہوا
اک اور شخص بھی ہے مرے نام کا یہاں
اک اور شخص ہے مرے جیسا بنا ہوا
سمجھا رہے ہو مجھ کو مرا ارتقا مگر
دیکھا نہیں ہے آدمی پہلا بنا ہوا
اے انہماک چشم ذرا یہ مجھے بتا
چاروں طرف زمین پہ ہے کیا بنا ہوا
کرنے لگا ہے طنز مرے نصف عکس پر
مجھ میں جو ایک شخص ہے پورا بنا ہوا
پہلے کسی کی آنکھ نے پاگل کیا مجھے
اب ہوں کسی نظر کا تماشا بنا ہوا
کھلتی نہیں ہیں تجھ پہ ہی عریانیاں تری
عاصمؔ ترا لباس ہے اچھا بنا ہوا
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے