Matti Meri Asman Mera

مٹّی میری ، آسمان میرا

اک شخص تھا کُل جہان میرا

سورج سے کڑی تھی دھوپ جس کی

کیا پیڑ تھا سائبان میرا

اک پھول تلے چٹخ رہا ہے

یہ شیشۂ سخت جان میرا

میں ٹُوٹ کے جڑ نہیں سکوں گا

دُنیا پہ نہ کر گمان میرا

اِس پل مجھے کون دے تسلّی

تُو بھی نہیں میری جان میرا

اے وہ کہ جسے بھلا چکا ہوں

ہٹتا نہیں تجھ سے دھیان میرا

اک پھول تلے چٹخ رہا ہے

یہ شیشۂ سخت جان میرا

اے وہ ، کہ جسے بھلا چکا ہوں

ہٹتا نہیں تجھ سے دھیان میرا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے