مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں

مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں

یوں جا رہے ہیں جیسے ہمیں جانتے نہیں

اپنی غرض تھی جب تو لپٹنا قبول تھا

بانہوں کے دائرے میں سمٹنا قبول تھا

اب ہم منا رہے ہیں مگر مانتے نہیں

ہم نے تمہیں پسند کیا کیا برا کیا

رتبہ ہی کچھ بلند کیا کیا برا کیا

ہر اک گلی کی خاک تو ہم چھانتے نہیں

منہ پھیر کر نہ جاؤ ہمارے قریب سے

ملتا ہے کوئی چاہنے والا نصیب سے

اس طرح عاشقوں پہ کماں تانتے نہیں

ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے