معصوم تمنا

معصوم تمنا
”بچو !آج ہمارے میجک شو کے مکمل ہونے پر ہم آپ سب کو آپکا منہ مانگا تحفہ دینگے“۔
میجیشین احسن اخلاق اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ گویا ہوا۔
”چاکلیٹس کی بارش“
چہرے پر معمولی مسکراہٹ لاتے ہوۓ کوٸ الفاظ بولے اور کچھ دیر کیلیے ارسلان چاکلیٹس ہی میں کھو گیا۔
”ڈیفرینٹ ٹواٸز“
ایک چٹکی بجاٸ اور ساحل کی خواہش پوری کر ڈالی۔
”کلرزہی کلرز“
یہ کونسا بڑی بات تھی۔
پلک جھپکتے ہی حسن کلرز کی دنیا میں کھو گیا۔
میجیشین انکل اچانک خاموش ہوگۓ انکی سخاوت و فراخ دلی کی وادیاں شاید ختم ہو چکی تھیں۔
پرنسپل صاحب نے لبوں پر دھیمی مسکان لیے فریال کی خواہش والی پرچی کھولی… پرچی کا کھلنا تھا کہ کہ…….. اس پر لکھے دو الفاظ نے سر کو اندر تک ہلا کے رکھ دیا
اور وہ دو الفاظ تھے
سر…. میرے بابا
عفرا عبد الکریم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے