مرتا ہےتو مرجائے , مددکیوں کرےکوئی

مرتا ہے تو مر جائے , مدد کیوں کرے کوئی
مفلس کی انا حرفِ سند کیوں کرے کوئی

ہر بار دعاؤں کو سمندر میں بہائے
ہر بار لبِ تشنہ احد کیوں کرے کوئی

گنتی کے جو دکھ درد مٹانے سے ہو قاصر
پھر یاد بھلا ایسا عدد کیوں کرے کوئی

خوش بخت مسافر ترے پاؤں کی ہنسی پر
زنجیر کی سرشاری کو رد کیوں کرے کوئی

معیار عجب ہے ترے اس شہرِ ستم کا
اونچا تری دستار سے قد کیوں کرے کوئی

کم ظرف منافق سے کوئی کس لیے الجھے
بیکار میں کردار کو بد کیوں کرے کوئی

ارشاد پرندوں کو ہواؤں سے بچائے
کٹتے ہوئے پیڑوں کی رسَد کیوں کرے کوئی

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے