فروری 5, 2023
icon urdu
از ڈاکٹر سیّد شبیہ الحسن

انسانی حیات متنوّع جذبات احساسات سے مملو ہے۔ ان جذبات میں سے دو جذبے یعنی جذبۂ الم و جذبۂ طرب ایسے ہیں جن پر انسانی زندگی گردش کر رہی ہے۔ یہ دونوں جذبے کبھی معاشرتی و تہذیبی صورتِ حالات کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں اور کبھی ان کی نمود ذاتی شخصیت کے حوالے سے ہوتی ہے تاہم یہ دونوں جذبات و احساسات اپنے اظہار کے لیے خود ہی پیرایۂ اظہار تلاش کر لیتے ہیں۔ اس حوالے سے جذبۂ غم کے شاعرانہ اظہار کی صورت صنف مرثیہ ہے اور احساسِ طرب کے اظہار کی شکل صنف قصیدہ قرار دی جا سکتی ہے۔ یہ دونوں جذبے اگرچہ اپنے طور پر نہایت اہم اور گراں قدر ہیں تاہم بعض اوقات کسی جذبے کی فراوانی دوسرے جذبے کو منظر سے ہٹا دیتی ہے۔ پامال جذبہ اپنی کارفرمائی بہرحال جاری رکھتا ہے اور اس کے اثرات بھی محسوس و غیر محسوس طریقے پر مرتسم ہوتے رہتے ہیں بعض مقامات پر یہ دونوں جذبے اس طرح توازن سے انسانی زندگی میں سرایت کر جاتے ہیں کہ غم و طرب کی تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی حالت ان دونوں اصنافِ سخن کی بھی ہے کہ بعض مقامات پر مرثیے اور قصیدے کی مماثلتیں چشم بینا کو متحیر و مستعجب کر دیتی ہیں۔
اودھ کی تہذیب کا خمیر طربیاتی عناصر کی فراوانی سے اٹھا، تاہم اس تہذیب پر ہندوستان کی عظیم تہذیبی روایت کا سایہ پرتو فگن تھا بقول ڈاکٹر صفدر حسین :
’’اودھ کی تہذیب بھی ہندوستان کی اس عظیم تہذیب کا عکس تھی جس نے کبھی دلی میں عروج پایا تھا لیکن اب دلی ماند پڑ رہی تھی اور لکھنؤ عروج پر تھا۔ اس کے علاوہ نئے ماحول میں قدیم تہذیب بعض مقامی، معاشی اور نفسیاتی اثرات کی وجہ سے قدرے منفرد اور چمک دار صورت اختیار کر گئی تھی۔ ‘‘
اودھ سے ملحقہ علاقوں اور خصوصاً لکھنؤ میں سیاسی استحکام، معاشی اطمینان اور ذہنی سکون کی وجہ سے طربیہ عناصر فروغ پا رہے تھے اور سوز کو اصنافِ سخن میں ساز بنایا جا رہا تھا۔ شاہ اودھ کی تقلید میں پورے لکھنؤ میں چھوٹے بڑے درباروں کی کثرت تھی اور نوابین کے اردگرد عوام الناس کا ایک جمِ غفیر رہتا تھا جن کا مطمحِ نظر فقط اپنے مالک کی خوشنودی ہوتا تھا۔ مقربین کی جائز و ناجائز مدح و ستائش ممدوح میں عطا و نوازش کی صفت مزید اُجاگر کر دیتی تھی۔ اسی بخشش اور جودوسخا کی عملی صورت تھی کہ لکھنؤ کے ہر فرد کی زبان پر یہ جملہ جاری ہو گیا کہ :
’’جس کو نہ دے مولا، اس کو دے آصف الدولہ‘‘
اسی طرح نواب غازی الدین حیدر کا اربابِ نشاط سے یہ کہنا کہ :
’’جب تک میں زندہ ہوں جتنا تمہاری قسمت میں ہے لے لو، سمیٹ لو۔ ‘‘ ان طلب گاروں کی آتشِ شوقِ طلب کو بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔ اب ایسی صورت میں اور طربیاتی ماحول میں قصیدے کا عروج نہ پانا اور مرثیے کا بامِ عروج تک پہنچ جانا محلِ نظر ہے۔ ناقدین کو اس اہم نکتہ کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ عیش و نشاط اور درباری ماحول کے باوجود لکھنؤ میں قصیدے کو عروج کیوں نہ حاصل ہو سکا…؟؟
انسانی زندگی غم و مسرت کے جذبات سے پُر ہے۔ جدید نفسیات دانوں نے اس بات کا کھوج لگایا ہے کہ اعلیٰ ترین انسان وہ ہے جس کی زندگی میں غم و طرب کے جذبات و احساسات توازن سے ہوں۔ اس اعتبار سے ان ناقدین نے انسانی زندگی کو ایک سکے کی مانند قرار دیا ہے جس کے ایک رُخ پر جذبۂ غم اور دوسرے پر جذبۂ طرب کی چھاپ ہے۔ اسی بات کو خواجہ میر درد نے شاعرانہ پیرائے میں یوں بیان کیا ہے :
دلِ پُر چاک سے گلِ خنداں
شادی و غم جہاں میں توام ہے
حقیقت تو یہ ہے کہ اعلیٰ انسان کی طرح اعلیٰ ترین تہذیب بھی اپنے اندر ایک ہی وقت میں جذبۂ طرب اور جذبۂ غم سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ انگلستان اور لکھنؤ کی اعلیٰ تہذیبوں کا مطالعہ کیجیے تو آپ دیکھیں گے کہ انگلستان میں اعلیٰ ترین المیہ اور طربیہ ڈرامے ایک ہی عہد میں تخلیق ہوئے۔ اسی طرح لکھنؤ میں مرثیہ (المیہ) اور ریختی (طربیہ) ایک ہی عہد میں اپنے فنی کمال تک پہنچے۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ المیہ اور طربیہ احساسات کسی بھی تہذیب کی تشکیل کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ گویا لکھنوی تہذیب و معاشرت کے طربیاتی ماحول میں با اعتبار ہونے والی احساس الم کی نمائندہ صنفِ سخن ’’مرثیہ‘‘ کو ہم وہاں کی تہذیبی علامت اور اخلاقی ضرورت قرار دے سکتے ہیں۔ اس حوالے سے رام بابو سکسینہ کی رائے بھی ملاحظہ فرمائیے :
’’…مرثیے میں اس حقیقی شاعری کا پرتو ہے جو اعلیٰ جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے۔ اس کی ادب آموزی ایسے وقت میں جب دنیائے شاعری عیش پسند درباروں کی خوشامد اور تتبع میں نہایت ادنیٰ اور رکیک جذبات کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی، قابل صد ہزار آفرین ہے۔ ‘‘
مرثیے میں دیگر اصناف کے محاسن کی موجودگی کے پیش نظر بیشتر ناقدین اس بات پر متفق ہیں کہ مرثیہ ایک مرکب صنف سخن ہے۔ اسی رویے کو شبلی نعمانی نے انیس کے حوالے سے بیان کیا ہے :
’’…میر انیس کا کلام شاعری کی تمام اصناف کا بہتر سے بہتر نمونہ ہے… ان کے کلام میں شاعری کی جس قدر اصناف پائی جاتی ہیں اور کسی کے کلام میں نہیں پائی جاتیں۔ ‘‘
ان محاسن کی موجودگی کی وجہ سے ناقدین نے مرثیہ کا موازنہ و تقابل دیگر مغربی و مشرقی اصناف سے کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس طرح مرثیے کی ذاتی حیثیت متاثر ہونے کا امکان ہے۔ مرثیے کا جن دیگر اصناف سے موازنہ کیا گیا ہے ان میں ’’قصیدہ‘‘ سرفہرست ہے۔ اس سلسلے میں ناقدین نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مرثیہ اپنے مزاج کے اعتبار سے قصیدہ ہے۔ اب ذیل میں ناقدین کی آرا کی روشنی میں مرثیے اور قصیدے کی مماثلتوں کے حوالے سے چند معروضات پیش خدمت ہیں۔
اُردو شاعری کی تاریخ میں قصیدہ اور مرثیہ دو قدیم اصنافِ سخن ہیں۔ جنوبی ہند کے شعرا کے دواوین کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ دونوں اصناف شعرا کے نزدیک معتبر رہے ہیں۔ اس عہد کا شاید ہی کوئی شاعر ہو جس کے دیوان میں بادشاہِ وقت کا قصیدہ اور اہلِ بیتؑ ِ رسالت کی مدح میں مرثیہ موجود نہ ہو۔ اس اعتبار سے ’’مدح‘‘ کا عنصر قصیدے اور مرثیے میں مشترک قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی سوچ نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی کہ مرنے والے متوفی کی مدح مرثیہ اور زندہ شخص کی مدح قصیدہ ہے لہٰذا یہ دونوں اصناف مزاجاً دراصل ایک ہیں۔ یہ روّیہ یہاں تک اہم ہو گیا کہ حالی جیسے صاحب علم و بصیرت نے بھی مقدمہ شعرو شاعری میں مرثیہ کو قصیدے کے ذیل میں پیش کیا اور اس سلسلے میں انہوں نے بھی یہی دلیل پیش کی کہ قصیدہ اور مرثیہ میں مدح کا عنصر مشترک ہے۔ حالی رقمطراز ہیں :
’’مرثیہ پر بھی اس لحاظ سے کہ اس میں زیادہ تر شخص متوفی کے محامد و فضائل ہوتے ہیں ، مدح کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ زندوں کی تعریف کو قصیدہ بولتے ہیں اور مردوں کی تعریف کو جس میں تاسّف اور افسوس بھی شامل ہوتا ہے مرثیہ کہتے ہیں۔ عرب کی قدیم شاعری میں قصائد اور مرثیے ایسے سچے اور صحیح حالات و واقعات پر مشتمل ہوتے تھے کہ ان سے متوفی کی مختصر لائف استنباط ہو سکتی تھی۔ ‘‘
حالی اور دیگر ناقدین کی گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ ’’مدح‘‘ کا عنصر مشترک ہونے کی وجہ سے قصیدہ اور مرثیہ ایک ہی صنف کہلانے کے لائق ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا رقمطراز ہیں :
’’…مدح کا عنصر بھی دونوں اصناف میں مشترک ہے۔ مدح کے حصے میں قصیدہ گو شاعر عموماً ممدوح کے عدل، شان و شکوہ اور بہادری کی تعریف کیا کرتے ہیں اور اس ضمن میں ممدوح کی تلوار اور گھوڑے کی تعریف بھی آ جاتی ہے۔ مرثیہ گو شاعر بھی حضرت امام حسینؑ اور ان کے رفقا کی بہادری اور تلوار اور گھوڑے وغیرہ کا ذکر تفصیل سے کرتے ہیں۔ ‘‘
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مدح کے عناصر کی موجودگی کے نتیجہ میں ہر صنف قصیدے کی ذیل میں آ جاتی ہے تو غزل، جس میں محبوب کی مدح سرائی جزوِ لاینفک ہے، قصیدہ کیوں نہیں …؟؟ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ مدح کا نہیں اس کی نوعیت اور طریقۂ پیشکش کا ہے۔ بلاشبہ قصیدہ نگار مدح سرائی کرتے وقت اعلیٰ ترین اقتدار پیشِ نظر رکھتا ہے۔ وہ قصیدے میں کسی مخصوص شخص کی مدح سرائی نہیں کرتا بلکہ وہ اس شخص کو اعلیٰ اقدار کا مظہر سمجھتے ہوئے قدری زندگی کو پیش کرتا ہے لہٰذا مولانا حالی کا یہ اعتراض کہ قصیدہ محض کسی شخص کی خوشامد ہوتا ہے، محلِ نظر ہے۔ (۱۲) اس کے علاوہ قصیدے سے حاصل ہونے والا انعام و اکرام اعلیٰ فن کی سرپرستی کہا جا سکتا ہے نہ کہ خوشامد کا نتیجہ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قصیدہ گو شاعر اپنے اعلیٰ شعری ہنر کا اظہار کرتا ہے اور ممدوح شاعر کو انعام و اکرام سے نوازتے ہوئے زندگی کے اعلیٰ رویوں کا اعتراف کرتا ہے۔ مرثیہ نگار بھی اپنے مرثیوں میں اعلیٰ ترین اخلاقی روّیوں کی پیشکش ہی کرتا ہے مگر اس کے پس منظر میں تاریخ کی ایک عظیم مذہبی روایت کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔ یہی پس منظر دونوں کے انداز مدح سرائی میں بھی فرق کا موجب بنتا ہے۔
اب ذیل میں مرثیے اور قصیدے کے چند مدحیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں اور خود دیکھیں کہ دونوں کی نوعیتوں میں کس قدر فرق ہے اور مدح کے پیش کرنے میں قصیدہ نگار اور مرثیہ گو میں کیا فرق نمایاں ہوتا ہے :

تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن
نام شاہنشہِ بلند مقام

قبلۂ چشم و دل بہادر شاہ
مظہرِ ذوالجلال والاکرام

شہسوارِ طریقۂ انصاف
نو بہارِ حدیقۂ اسلام

جس کا ہر فعل صورتِ اعجاز
جس کا ہر قول معنیِ الہام

بزم میں میزبانِ قیصر و جم
رزم میں اوستادِ رستم و سام
(اقتباس: قصیدہ بہادر شاہ کی مدح میں ، غالب)
یعنی نواب فلک رتبہ شجاع الدولہ
قائم اس کا رہے تا حشر یونہی جاہ و جلال

یہ تمنائے جبیں بدر بھی ہوتا ہے بلال
بسکہ یاں سجدے کے مشتاق ہیں اربابِ کمال

یہ وہ در ہے کہ یہاں آ کے بہم پہنچا دے
رتبہ بال ہما پر مگس بے پر و بال
(اقتباس : قصیدہ در مدح شجاع الدولہ، سودا)

بچوں میں سبز رنگ کوئی تھا کوئی صبیح
شیریں سخن، لبوں پہ نمک، رنگتیں ملیح،
چاٹیں لبوں کو، ان کی جو باتیں سنیں فصیح
مُردوں کو دم میں زندہ کریں صورتِ مسیحؑ

جد و پدر کی طرح جری ہیں ، دلیر ہیں
بچے ہیں یوں ، پہ غیظ جب آئے تو شیر ہیں
(حضرت عون و محمد کی مدح۔ انیس)

تیغ و ترنج اگر ہوں ہلال اور آفتاب
سرکاؤں چہرۂ علی اکبرؑ سے پھر نقاب
حوریں گلوں کو کاٹ کے تڑپیں رہے نہ تاب
گر دیکھتیں وہ حسن ملیح اور وہ شباب

پریاں تو ان کے سائے کا پیچھا نہ چھوڑتیں
دامن کبھی جنابِ زلیخا نہ چھوڑتیں
(حضرت علی اکبرؑ کی مدح۔ انیس)

قصیدے اور مرثیے کی ایک مماثلت ناقدین نے یہ تلاش کی ہے کہ دونوں اصناف سخن کے اجزا ایک جیسے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ نکتہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ مرثیے کے اجزا قصیدے کے اجزا سے مستعار لیے گئے ہیں۔ ناقدین کا یہ کہنا بھی محلِ نظر ہے کہ میر ضمیر جس وقت مرثیہ کے اجزا متعین کر رہے تھے اس وقت ان کے پیشِ نظر صرف قصیدے کی صنف تھی۔ گویا مرثیہ کی تشکیل قصیدے کی مرہونِ منت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں :
’’… مرثیے میں ’’سراپا‘‘ تو خیر قصیدے کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے لیکن تلوار کی تعریف، گھوڑے کی تعریف اور اہلبیتؑ کی دوسری صفات کا بیان بھی اسلوبِ قصیدہ ہی کے دائرے میں آتا ہے۔ ‘‘
’’… مرثیے کا چہرہ قصیدے کی تشبیب کی طرح سے ہے۔ جس طرح قصیدے کی تشبیب میں کبھی مناظرِ فطرت بیان کیے جاتے ہیں کبھی فخریہ مضامین آ جاتے ہیں ، کبھی اخلاقی خیالات سے آغاز ہوتا ہے، اسی طرح مرثیے میں بھی عام طور پر ایسے ہی تمہید یہ مضامین ہوتے ہیں۔ ‘‘
مندرجہ بالا پیش کردہ نظریہ پر بحث سے قبل ضروری ہے کہ ہم قصیدے اور مرثیے کے اجزا آپ کی خدمت میں پیش کر دیں۔
اجزائے قصیدہ:
(۱) تشبیب یا نسیب
(۲) گریز یا مخلص
(۳) مدح
(۴) دعا یا خاتمہ

اجزائے مرثیہ :
(۱) تمہید (چہرہ)
(۲) سراپا
(۳) رخصت
(۴) آمد
(۵) رجز
(۶) واقعاتِ جنگ
(۷) شہادت
(۸) بین
(۹) دعا

آپ دونوں اصناف کے اجزا کا مطالعہ کیجیے اور بتائیے کہ تمہید، سراپا اور دعا کے علاوہ مرثیے کا کون سا جزو قصیدے سے ماخوذ قرار دیا جا سکتا ہے؟؟ حقیقت یہ ہے کہ مرثیہ قصیدے کی توسیعی شکل ہے، لہٰذا مرثیے میں اس صنف کے اجزا کی شمولیت حیران کن نہیں بلکہ رجز، واقعات جنگ، شہادت اور بین کے اجزا نے یہ بات ثابت کی ہے کہ قصیدے کی نسبت مرثیے میں موضوعات سمیٹنے اور پیش کرنے کی زیادہ اہلیت ہے۔ اس کے علاوہ اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ ضمیر نے مرثیے کے اجزا متعین کرتے وقت محض قصیدے کے اجزا کو پیش نظر رکھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرثیے میں ’’بہاریہ‘‘ اور ’’ساقی نامہ‘‘ کے اضافے کے وقت نواب مرزا عروج اور پیارے صاحب رشید کے پیشِ نظر کون سے قصائد تھے؟؟ حقیقت یہ ہے کہ مرثیے نے قصیدے کے ہموار راستے پر اپنی عمارت تعمیر کی اور دیکھتے ہی دیکھتے مرثیہ قصیدے کی نسبت زیادہ مقبول ہو گیا اور حالی کو کہنا پڑا کہ ہمارے قصائد کی حالت تو ناگفتہ بہ ہے البتہ ہمارے شعرا نے مرثیے میں ایک خاص قسم کی نمایاں ترقی کی ہے۔ بہرحال مرثیہ اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک منفرد صنف ہے اور کسی دوسری صنف سے اس کو نتھی کرنا درست نہیں ہے بقول ڈاکٹر احسن فاروقی :
’’… جب ہم اُردو شاعری کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہمارے ادب کی سب سے زیادہ انوکھی Originalصنف مرثیہ ہے… مرثیہ ایسی صنف ہے جسے ہم نے اس کی موجودہ صورت میں کسی دوسری قوم یا اس کے ادب سے نہیں لیا بلکہ جس کی اردو ہی میں بنیاد پڑی اور اسی زبان میں نشوونما پا کر وہ درجۂ کمال کو پہنچا۔ ‘‘
ناقدین کا اصرار ہے کہ قصیدے اور مرثیے دونوں میں کسی نہ کسی ممدوح کی توصیف کی جاتی ہے اس لیے مقصد کے اعتبار سے یہ دونوں اصناف یکساں ہیں۔ جہاں تک قصیدے اور مرثیے میں ممدوح کی موجودگی کا ذکر ہے ابھی اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ قصیدہ گویا مرثیہ نگار اعلیٰ ترین اقدار کی گفتگو کرتا ہے۔ وہ اپنے ممدوح میں ہر وہ خوبی دیکھنا چاہتا ہے جو اعلیٰ ترین اقدار کی مظہر ہو۔ اس اعتبار سے ممدوح بھی اعلیٰ ترین اقدار کا نمائندہ بن کر قاری کے سامنے آ جاتا ہے۔ مرثیے اور قصیدے کے ممدوح میں فرق یہ ہے کہ مرثیے کا ممدوح بعض دیگر رجحانات و تصورات کی وجہ سے فوراً قابلِ قبول ہو جاتا ہے جبکہ قصیدے کے ممدوح کو ذہنِ انسانی ذرا تاخیر سے قبول کرتا ہے۔ اس کے کیا اسباب ہیں …؟؟ درحقیقت مرثیے کے ممدوح کی حیثیت عام انسان سے قدرے بالا تر سمجھی جاتی ہے اور مذہبی حوالے سے اسے بالعموم قابلِ تقلید بھی سمجھا جاتا ہے جبکہ قصیدے کے ممدوح کو اس قسم کا تقدس حاصل نہیں ہوتا جو مرثیے کے ممدوح کے لیے مختص ہے۔ ذیل کے اقتباسات کا مطالعہ کیجیے تو قصیدے اور مرثیے کے ممدوح کا ایک واضح فرق آپ کے سامنے آ جائے گا:

یوں کرسی زر پر ہے تری جلوہ نمائی
جس طرح کہ مصحف ہو سرِ رحلِ طلائی

رکھتا ہے تو وہ دستِ سخا سامنے جس کے
ہے بحر بھی کشتی بکف از بہرِ گدائی

گمرہ کو ہدایت جو ترے راہ پہ لا دے
رہ زن بھی اگر ہو تو کرے راہ نمائی

خورشید سے افزوں ہو نشاں سجدے کا روشن
گر چرخ کرے در کی ترے ناصیہ سائی

عکسِ رُخِ روشن سے ترے جوں یدِ بیضا
کرتا ہے کف آئینہ اعجاز نمائی
(اقتباس۔ در مدح بہادر شاہ ظفر=ذوق)

یعنی وہ شاہ سلیماں کہ شکوہ سے اس کے
نیّرِ حشمت و اقبال کو ہے چمکاہٹ

جشنِ شاہانہ ہے اور ہیں امرا حاضرِ وقت
اس کے مجرے کو کھڑے فوجوں کے ہیں غٹ کے غٹ

بزم ایسی ہی مرتب ہے کہ سبحان اللہ
جس میں اقسام تماشا کا ہوا ہے جمگھٹ
(اقتباس۔ در مدح شہزادہ سلیمان شکوہ =انشا)

نعرے سے تیرے ہووے ہیبت کا چاک سینہ
دل پر دلاوری کے وہ تیغ حیدری ہو

تیرے سوا جہاں میں کون آج ہے توانا
جو دل کے ناتواں کو دیتا تونگری ہو

جاروب کش ہے تیرے مشکوئے خسروی کا
زیبا ہے ماہ کو گر، فرمانِ مہتری ہو

خورشید نذر لائے جب افسر شعاع سے
منشور افسری پر توقیع خاوری ہو

لائیں پئے سواری، تو سن کر جب سجا کر
صورت میں ہووے پتلی، پرواز میں پری ہو
(اقتباس۔ در مدح اکبر شاہ ثانی =ذوق)

مندرجہ بالا اقتباس کی روشنی میں آپ کے سامنے قصیدے کے ممدوح کی ایک خاص شبیہ ابھری ہو گی۔ اب ملاحظہ فرمائیے کہ مرثیے کا ممدوح کس طرح اپنی شخصیت میں سحر آفرینی پیدا کر کے قاری کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا ہے اور قاری خودبخود اس کی تقلید کے لیے بے چین ہو جاتا ہے :

میں ہوں سردارِ شبابِ چمنِ خلدِ بریں
میں ہوں خالق کی قسم دوشِ محمدؐ کا مکیں
میں ہوں انگشترِ پیغمبرِؐ خاتم کا نگیں
مجھ سے روشن ہے فلک مجھ سے منور ہے زمیں

ابھی نظروں سے نہاں نور جو میرا ہو جائے
محفلِ عالم امکاں میں اندھیرا ہو جائے

حرؑ نے دیکھا کہ چلے آتے ہیں پیدل شبیرؑ
دوڑ کر چوم لیے پائے سرِ عرشِ سریر
شہؑ نے چھاتی سے لگا کر کہا ’’اے با توقیر!‘‘
میں نے بخشی، مرے اللہ نے بخشی تقصیر

میں رضامند ہوں ، کس واسطے مضطر ہے تو
مجھ کو عباسِؑ دلاور کے برابر ہے تو
(اقتباسات مراثی انیس)

مرثیے اور قصیدے کی ایک مماثلت ناقدین نے ’’مبالغہ‘‘ قرار دی ہے۔ ان کے خیال میں مرثیہ اور قصیدہ میں شاعر مبالغہ کو یکساں طور پر استعمال کرتا ہے، اس لیے قصیدہ اور مرثیہ صنف کے اعتبار سے ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔
ہندوستان پر سیاسی گرفت کے بعد انگریزوں نے اپنے استعماری ہتھکنڈوں سے ہندوستانیوں کی جسمانی قوت پر تو قبضہ کر لیا لیکن وہ ان کی تخیٔلی سطح کو فتح نہ کر سکے۔ اس عمل کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ لکھنو کے فوجیوں کے ہاتھوں سے چھینی جانے والی تلواریں انیس کے مرثیوں میں زیادہ آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگیں۔ اُردو شاعری کی تخیلاتی پرواز سے انگریزی حکومت کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ جب تک شاعری میں تخیلاتی تلواریں چلتی رہیں گی اس وقت تک یہ امکان باقی رہے گا کہ واقعاتی دنیا میں انہی تلواروں کا استعمال کیا جائے۔ نظم جدید کی فطرت نگاری نے تخیل کو چھوڑا اور واقعیت اور گرد و پیش کے مناظر سے اپنا رشتہ استوار کیا۔ محمد حسین آزاد اپنے تخیل سے قطعی طور پر آزاد نہ ہو سکے اور انہوں نے ایک درجہ نیچے اتر کر تمثیل کے انداز میں نئے رویوں سے سمجھوتہ کر لیا مگر حالی نے خود کو واقعیت سے وابستہ کر کے امرِ واقعہ کو شاعری کہنے لگے، سرسید اور ان کے رفقا اپنی تمام تر علمی قابلیت اور ذہنی بصیرت کے باوجود اس نکتے کو فراموش کر گئے کہ تخیل اور حقیقت دونوں کی حیثیت مسلّم ہے۔ بہرحال کچھ تو نئے علوم کی خیرہ کر دینے والی روشنی اور کچھ جدّت سے لگاؤ کے سبب سے ان لوگوں نے ہر اس شے کے خلاف لکھنا شروع کر دیا جو تخیل کے لیے مفید ہو سکتی تھی لہٰذا حالی نے تخیل کے اساسی رکن مبالغہ کو جھوٹ کے ہم معنی قرار دے کر شعرا کو مبالغے سے پرہیز کا مشورہ دیا۔ ملاحظہ فرمائیے :
’’… دوسری نہایت ضروری بات یہ ہے کہ شعر میں جہاں تک ممکن ہو حقیقت اور راستی کا سررشتہ ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے… زمانے کا اقتضا یہ ہے کہ جھوٹ، مبالغہ، بہتان، افتراء صریح، خوشامد، ادعائے بے معنی، تعلیِ بے جا، الزامِ لایعنی، شکوہ بے محل اور اسی قسم کی باتیں جو صدق و راستی کے منافی ہیں اور شاعری کے قوام میں داخل ہو گئی ہیں ، ان سے جہاں تک ممکن ہو قاطبۃً احتراز کیا جائے۔ یہ سچ ہے کہ ہماری شاعری میں خلفائے عباسیہ کے زمانے سے لے کر آج تک جھوٹ او مبالغہ برابر ترقی کرتا چلا آیا ہے اور شاعری کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہی نہیں رکھا گیا بلکہ اس کو شاعری کا زیور سمجھا گیا ہے، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جب سے ہماری شاعری میں جھوٹ اور مبالغہ داخل ہوا اسی وقت سے اس کا تنزل شروع ہوا۔ ‘‘
حالی نے مبالغہ کی جس طرح مذمت کی ہے وہ قابل ستائش نہیں۔ شاعری میں مبالغہ کی حیثیت اساسی ہے۔ مبالغہ کسی شے کو ایک قدری حیثیت سے اٹھا کر دوسری قدری حیثیت میں لے جانے کا نام ہے گویا کسی شے کو جب ہم ایک سطح سے دوسری سطح تک لے جائیں تو مبالغہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر شے کو ادنیٰ سطح سے اعلیٰ سطح تک لے جائیں تو یہ اس کی تعریف ہو گی اور یہی مرثیہ اور قصیدے کا اسلوب ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی شے کو اعلیٰ سطح سے ادنیٰ سطح پر لے آئیں تو اس صورت میں بھی مبالغہ پیدا ہو گا مگر یہاں مبالغے کا مقصد تعریف کے بجائے تعریض ہو گا اور اس صورت میں طنز پیدا ہو گا جو ہجویہ قصائد کا اسلوب ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شاعر قصیدہ لکھ کر شکوہ بے محل پیدا کرتا ہے تو اس میں غلطی شاعر کی ہے یا مبالغہ کی؟؟ دوسری بات یہ کہ حالی بے چارے اس بات کو فراموش کر گئے کہ طنز بھی تو مبالغہ ہی سے جنم لیتا ہے۔ جو عوام الناس کی اصلاح کے لیے مفید بھی ہے اور کارگر بھی … اب حالی سے یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا کوئی ایسی چیز جو قوم کو راہِ راست پر لا سکتی ہو، قوم کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ شاعر تخیل کے بغیر اور تخیل مبالغے کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ بات صرف قصیدے یا مرثیے ہی کی نہیں ہر صنفِ سخن میں شاعر مبالغہ کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے اور بلاشبہ مبالغہ سے بات میں حسن اور رعنائی پیدا ہو جاتی ہے۔ میرؔ کی غزل کا یہ معروف شعر ملاحظہ فرمایے اور بتائیے کہ کیا اس میں مبالغہ کے استعمال نے حسن پیدا نہیں کیا؟
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
ماحصل یہ ہے کہ حالی کسی بھی سبب سے مبالغے کی مذمت کریں مبالغہ کے بغیر شاعری حالی کی غزلوں کی طرح بے لطف و بے مزا ہو جائے گی۔
مرثیے اور قصیدے دونوں اصنافِ سخن میں سخت شاعرانہ کاوشوں اور فنی ریاضتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شاعر میں یہ استعداد بھی ہونی چاہیے کہ وہ شعر کی تاثیر اور حسن میں اضافے کرنے والے عناصر سے باخبر رہے۔ مبالغہ شاعرانہ حسن پیدا کرنے کا ایک نہایت کامیاب گر ہے۔ اس لیے ہر ہوشیار شاعر اپنے کلام میں حسن و لطافت پیدا کرنے کے لیے مبالغہ کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ اس اعتبار سے شبلی نعمانی کا یہ کہنا کہ انیس نے زمانے کے اقتضا اور مجبوری کے تحت اپنی شاعری میں مبالغہ استعمال کیا، قابلِ قبول نہیں ، شبلی نعمانی فرماتے ہیں :
’’… میر انیس کے زمانے میں مبالغہ کمال کی حد کو پہنچ چکا تھا اور یہ حالت ہو گئی تھی کہ جب مبالغہ میں انتہا درجہ کا استبعاد نہیں ہوتا تھا، سامعین کو مزا نہیں آتا تھا مجبوراً میر صاحب نے بھی وہی روش اختیار کی۔ ‘‘
حقیقت یہ ہے کہ انیس یا دیگر مرثیہ نگاروں نے جہاں مبالغے سے کام لیا ہے وہاں اپنی فنی مہارت کا ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ قصیدہ نگار بھی مبالغے سے کام لیتا ہے مگر اس کا بھرم قائم نہیں رہ پاتا۔ اگرچہ قصیدہ اور مرثیہ دونوں مبالغے کے جوہر سے مالا مال ہوتے ہیں تاہم ان میں جو فرق ہوتا ہے وہ ان مثالوں سے ظاہر ہو جائے گا :

چشم بد دور خسروانہ شکوہ
لوحش اللہ، عارفانہ کلام

جانثاروں میں تیرے قیصرِ روم
جرعہ خواروں میں تیرے مرشدِ جام

وارثِ ملک جانتے ہیں تجھے
ایرج و تور و خسرو و بہرام

زورِ بازو میں مانتے ہیں تجھے
گیو و گو درز و بیزن و ربام
(اقتباس۔ قصیدہ در مدح بہادر شاہ ظفر، غالب)

کرتا ہے تری نذر سدا نقدِ سعادت
ہے مشتریِ چرخ کی کیا نیک کمائی

اک مرغ ہوا کیا ہے کہ سیمرغ نہ چھوڑے
گر سو بہوا ہووے تیرا تیر ہوائی

ہر کوہ اگر کوہِ صفا ہو تو عجب کیا
ہو فیض رساں جب ترے باطن کی صفائی

ہو بلکہ صفا ایسی دلِ سنگ صنم میں
ہر بت میں کرے صورتِ حق جلوہ نمائی
(اقتباس: درِ مدح بہادر شاہ ظفر، ذوق)

وہ لُو وہ آفتاب کی حدّت و تاب و تب
کالا تھا رنگ دھوپ سے دن کا مثالِ شب
خود نہرِ علقمہ کے بھی سوکھے ہوئے تھے لب
خیمے جو تھے حبابوں کے تپتے تھے سب کے سب

سرخی اڑی تھی پھولوں سے سبزہ گیاہ سے
سایہ کنویں میں اترا تھا پانی کی چاہ سے

شیر اٹھتے تھے نہ خوف کے مارے کچھار سے
آہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سے
آئینہ مہر کا تھا مکدّر غبار سے
گردوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بخار سے

گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر
بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر
(اقتباسات مراثیِ انیس)

بعض مماثلتوں کی موجودگی کے باوجود مرثیے اور قصیدے میں تاثر اور نتائج کا واضح فرق موجود ہوتا ہے۔ تاثرات و نتائج کا یہ فرق معاشرے کی مروجہ اقدار کے سبب سے ہو یا اصناف کے مزاج و اسالیب سے، ناقدین کی یہ بات بہرحال مسلّم ہے کہ ’’اشعار کا فرقِ مراتب صرف اثر کی کمی اور زیادتی پر منحصر ہے۔ ‘‘
لکھنؤ میں طربیہ عناصر کی خوب آبیاری ہوتی تھی تاہم محرم کا چاند دیکھتے ہی اہلِ لکھنؤ اپنی زندگی اور معمولات میں یکسر تبدیلی لے آتے تھے۔ طربیہ ماحول پر حزنیہ عناصر کا قبضہ ہو جاتا تھا اور پوری فضا حزن و ملال کی کیفیت میں ڈوب جاتی تھی۔ محرم کی رسومات کا آغاز ہو جاتا تھا جوچالیس روز تک جاری رہتی تھیں۔
مرثیہ کا براہ راست تعلق محرم کی رسومات سے ہے اور یہ ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو رسومات اور فن کے تعلق کو واضح کرتی ہے۔ لکھنؤ کی تہذیبی فضا میں المیہ اور طربیہ دونوں اقسام کے جذبوں کی پیشکش کے لیے دو مختلف اصناف سخن کا استعمال کیا گیا ایک مرثیہ اور دوسرے ریختی۔ کیونکہ مرثیے کا تعلق محرم کی رسومات سے ہے اس لیے اس کی تمام فضا المیاتی صورت حالات سے رنگی ہوتی ہے۔ بقول ڈاکٹر محمد حسن :
’’… محمد علی شاہ اور امجد علی شاہ کے دورِ حکومت میں دربار شعر و شباب کی رنگینیوں سے زیادہ مذہبی پرہیزگاری کی طرف رجوع رہا اور اس خشک علمی فضا کی مدد سے اس دور میں مرثیہ نے غزل پر فتح پائی۔ محرم اور دوسری اثنا عشری رسوم پوری شان و شوکت سے اس سے بھی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ منائی گئیں … مذہب اور اس کے فرائض و رسوم کی ادائیگی میں مرثیہ خوانی اور دوسرے عناصر نے جگہ پائی جس سے یہ گریہ و ماتم بے روح اور خشک طور پر مذہبی ہونے کے بجائے ایک زندہ اور شاداب تقریب بن گیا۔ ‘‘
اگرچہ پورے مرثیے میں ایسے ٹکڑے بھی موجود ہوتے ہیں جو ممدوح کی مدح اور اس کے فضائل سے متعلق ہوتے ہیں اور وہ بھی جن میں فطرت کی اعلیٰ ترین عکاسی ہوتی ہے، اس کے باوجود مجموعی تاثر المیاتی ہی ہوتا ہے۔ مرثیے کو جو عروج لکھنؤ میں ملا اس میں اُردو کے روایتی اصنافِ سخن نے مل جل کر رنگ بھرے۔ غزل، قصیدہ، مثنوی وغیرہ کا جوہر مرثیے میں شامل ہوا۔ بقول ڈاکٹر محمد حسن :
’’…مرثیے نے اپنے میں مثنوی کی سادگی اور قصیدے کا شکوہ جذب کر لیا اور چونکہ داستان کی رنگارنگی اور ہمہ گیری ان عناصر کو اپنے اندر سمو سکتی تھی اس لیے مرثیہ ان نئے شاعرانہ جوہروں کے امتزاج سے زیادہ شاداب اور شاندار ہو گیا۔ ‘‘
اس طرح جو مرثیہ اُردو میں پیدا ہوا وہ اپنے رنگ خاص کے با وصف خالص اودھ تہذیب کی دین ہے۔ اسی نکتہ کو پروفیسر اعجاز حسین نے بھی پیش کیا ہے، رقم طراز ہیں :
’’مرثیہ چونکہ ایک مسلسل نظم ہے اور اس میں وسعت اور تنوع کی بھی کمی نہیں ، اسے اجزائے ترکیبی کے مختلف عنوانات کا فائدہ بھی حاصل ہے، اس لیے اس میں دیگر اصناف سخن مثلاً غزل، قصیدہ، مثنوی وغیرہ کی بعض خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ ہر خصوصیت کو مذہب نے ایک دوسرے انداز سے پیش کر دیا ہے۔ حسن و عشق کی روداد میں بھی یہاں تقدس و روحانیت کا غلبہ ہے۔ ‘‘
بہرحال یہ شاعری کا فریضہ ہو یا صنف سخن کی ضرورت اسی تقدس اور روحانیت نے مرثیہ کو معراجِ کمال بخشا۔ بیشتر مرثیہ نگاروں نے اس حزنیہ طرزِ احساس کی مدح سرائی بھی کی ہے اور حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے :

مہلت جو اجل دے تو غنیمت اسے جانو
آمادہ ہو رونے پہ سعادت اسے جانو
آنسو نکل آئیں تو عبادت اسے جانو
ایذا بھی ہو مجلس میں تو راحت اسے جانو

فاقے کیے ہیں دھوپ میں لب تشنہ رہے ہیں
آقاؑ نے تمہارے لیے کیا ظلم سہے ہیں (انیس)

اس کے ساتھ ساتھ شعرائے مرثیہ نے اس خاص حزنیہ ماحول کے خاتمے کو نہایت غم انگیز قرار دیا ہے :

اے ماتمیو! شاہ کا ماتم ہوا آخر
روئے نہ دبیر، آہ محرم ہوا آخر
لو چہلمِ سلطانِ دو عالمؑ ہوا آخر
غم رہ گیا پر غم کا وہ موسم ہوا آخر

سر کھول دو اور پھاڑو گریبانوں کو اپنے
اے مومنو! رخصت کرو مہمانوں کو اپنے
(دبیر)

اس کے برعکس قصیدے میں شاعر کو ایک طربیہ ماحول پیش کرنا ہوتا ہے۔ حالات کیسے ہی برے کیوں نہ ہوں قصیدہ نگار اس میں سے طربیہ عناصر ڈھونڈ لیتا ہے۔ یہی قصیدہ نگار کا شاعرانہ ہنر ہے، بقول ڈاکٹر ابواللیث صدیقی :
’’…ممدوح حقیر فقیر پر تقصیر ہی کیوں نہ ہو اس کی مدح میں جو قصیدے کہے جاتے ہیں ، ان کے الفاظ اور تراکیب پر شکوہ، تشبیہات اور استعارات پر زور اور شعر کے تیور بڑے تیکھے ہوتے ہیں۔ ‘‘
میری گفتگو اس نکتے پر آ کر تمام ہوئی کہ مرثیے اور قصیدے کی یہ مشترک جہتیں و مماثلتیں اور فن کے مابین فرق دراصل ان اصناف کے المیاتی و طربیاتی طرزِ احساس کی وجہ سے قائم ہے۔ ابھی آپ نے مرثیے کے دو بند پڑھے۔ اب چلتے چلتے قصیدے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے اور طربیہ اور المیہ احساسات کا فرق دیکھیے :

تجھ کو خبر نہیں کیا ہے دورِ شاہ اکبر
رفعت سے پست جس کی شان سکندری ہو

ہے فکر کیا جب ایسا فیاض ہو جہاں میں
اور دل کا اس کے مقصد خود بندہ پروری ہو

مثلِ سحاب جا کر باندھے ہوا فلک پر
جس پر کہ اس کی چشم الطاف سرسری ہو
(اقتباس، قصیدہ در مدح اکبر شاہ ثانی =ذوق)

شاہ کے آگے دھرا ہے آئینہ
اب مآلِ سعی اسکندر کھلا

ملک کے وارث کو دیکھا خلق نے
اب فریب طغرل و سنجر کھلا

ہو سکے کیا مدح ہاں اک نام ہے
دفتر مدح جہاں داور کھلا

فکر اچھی پر ستائش ناتمام
عجز اعجاز ستائش گر کھلا

جانتا ہوں ہے خط لوحِ ازل
تم پہ اے خاقانِ نام آور کھلا

تم کرو صاحب قرانی جب تلک
ہے طلسم روز و شب کا در کھلا
(اقتباس، قصیدہ بہادر شاہ کی مدح میں =غالب)

درج بالا نکات کا ماحصل یہ ہے کہ قصیدہ اور مرثیہ ہمارے معروف کلاسیکی اصناف ہیں جو اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے جداگانہ صفات رکھتے ہیں۔ یہ اصناف بعض یکساں مماثلتیں رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے مزاجاً جدا ہیں۔ عصرِ حاضر میں قصیدہ اپنی وقعت کھو بیٹھا ہے تاہم مرثیہ آج بھی تر و تازہ ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مرثیے نے اپنے وجود میں بنیادی تبدیلیاں کر لی ہیں اور خود کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ قصیدہ اپنی بنیادی حیثیت کو بحال نہیں رکھ سکا۔ نہ دربار رہے نہ درباری شاعری لہٰذا قصیدہ رو بہ زوال ہو گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے کلاسیکی اصناف کا مطالعہ ایک مرتبہ پھر عمیق نگاہی سے کریں اور ان کی عظمت و حیثیت کا بارِ دگر تعین کریں۔

ڈاکٹر سیّد شبیہ الحسن

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے