مرد کی آمریت

"مرد کی آمریت”

آج 10 ستمبر 2020 کو ایک اور عورت کی عصمت دری اور آبرو ریزی کا واقعہ پاکستان کے تمام نیوز چینلز کی زینت بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور ہر زبان عام پر اس واقعہ کی عزاداری ہے۔ پھر ایک حوا کی بیٹی کی عزت تار تار کر دی گئی وہ بھی اس کے بچوں کے سامنے۔
ہر ایک کا مطالبہ ہے کہ ان مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور ان کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے۔ بلکل ٹھیک بات ہے ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ تو اس بیماری کا علاج ہے جو اس کے ہونے پر اس کی تدبیر کی جائے۔ کچھ دنوں بعد سب لوگ بھول جائیں گے۔ اس جرم کے لیے قانون بھی موجود ہے اور سزا بھی موجود ہے۔
اس طرح کے معاملات دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں ہوتے ہیں اور وہاں سزائیں بھی موجود ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسے واقعات کو عورت کے قصور سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی ایک حکومتی اہلکار نے اپنے بیان میں عورت کو زمہ دار قرار دینے کی کوشش کی۔
ہمارا معاشرہ ہمیشہ عورت کو پردے اور وفا کی مورت دیکھنا چاہتا ہے۔ ہمارا معاشرہ بڑی آسانی سے کسی بھی عورت پر بے حیائی اور بدکرداری کا لیبل لگا دیتا ہے۔ عورت تھوڑا ہنس لے تو بے وفا اور اگر اس کا دوپٹہ زرا سا سرک جائے تو فحاشی تک کا الزام لگ جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ہر مرد اپنی بہن بیوی اور بیٹی کو تو باپردہ دیکھنا چاہتا ہے لیکن اپنی ہوس زدہ اور خونخوار آنکھیں ہر کسی پہ رکھتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں مرد عورت کا امیر بننے کے بجائے حاکم بن بیٹھا ہے۔ یہ ہر گھر کی کہانی ہے۔لیکن جہاں بھی عورت کا استحصال ہوتا ہے وہاں مرد کی آمریت کا راج ہوتا ہے۔
اس ہندو پاک خطے میں عورت آج بھی غلام ہے۔ اس غلامی کا Tor یہ ہے کہ اس گھر میں تمہاری ڈولی جا رہی ہے اب اس گھر میں تمہارا جنازہ ہی آئے۔ یہ وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے آج کی عورت شادی کے نام سے کانپتی ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ اگر یہ بندھن ناکام ہو گیا تو الزام صرف اسی کو ملے گا۔ طلاق ہمارے معاشرے میں ایک گالی ہے۔ طلاق سے لے کر کوئی بھی منفی عمل اگر عورت اور مرد کے بیچ ہو تو اس عمل کہ زمہ دار عورت ہی ہو گی۔
ہم نے گھر میں مرد کی آمریت کا ایک ماڈل متعارف کروایا ہے۔ جس کے تحت سارے فیصلے مرد کے ہاتھ میں ہیں۔ شوہر بیوی کے بارے میں اور باپ بیٹی کے معاملے میں فیصلے کرتے وقت ان کی مرضی جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔
یہ جو موٹروے پر حادثہ ہوا ہے یہ ایک سانحہ نہیں بلکہ مرد کی آمرانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔ایسے واقعات تو میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں لیکن ایک نہ ختم ہونے والی زیادتیاں بند گھر میں رہنے والی عورت پر ہو رہی ہیں جس کا نہ کوئی پرسانِ حال ہے نہ کوئی ان کا۔مداوا کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے کے تضادات بھی نرالے ہیں۔ کبھی ہم عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے سخت خلاف تھے۔ اس کے بعد جوں جوں معاش کا مسئلہ شدت اختیار کرتا گیا توں توں عورت کا گھر سے نکل کر کام کرنا ضرورت بن گیا۔ اب عورت مرد پر انحصار کرنے کے بجائے خود کام کر کے اپنا گھر چلا سکتی ہے۔ لیکن جن گھروں میں یہ سوچ ابھی پروان بھی نہیں چڑھ رہی وہاں اب بھی ‘انوسٹمنٹ’ کی جاتی ہے کہ وہ بڑھاپے کا سہارا بنے گا جب کہ بیٹیاں تو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ اسی سوچ نے عورتوں کو اعلی تعلیم سے روکے رکھا کہ انہوں نے شادی کر کے پرائے گھر سدھار جانا ہے۔ جب کہ اس سفاک معاشرے میں اگر کسی کو تعلیم ہنر اور ملازمت کہ سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ عورت ہے تاکہ اس کو اپنی ضرورتوں کے لیے کسی خبیث مرد پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
ہم اپنے تئیں عورت کو یہ کہہ کر عزت دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ عورت ماں بہن بیوی اور بیٹی ہے مگر درحقیقت یہ تمام رشتے آپ کہ شناخت نہیں ہیں۔ بلکہ عورت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس کے اپنے وجود کی ایک پہچان ہے جو کہ کسی مرد کے ساتھ جوڑنا ضروری نہیں ہے۔ مغرب میں عورت کو ہراساں کرنے کے حوالے سے اتنے سخت قوانین ہیں کہ بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ مردوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ مگر یہ زیادتی ہونا ضروری ہے تاکہ عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو روکا جا سکے۔
ہمارے معاشرے میں صرف عورت کو پردے اور حیا کا درس دیا جاتا ہے تاکہ وہ صرف اپنی عزت کی حفاظت کرے لیکن مردوں کو کبھی یہ نہیں سکھایا جاتا کہ تم اپنی نظروں کی حفاظت کرو اور ہر عورت کہ عزت کرو۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے رشتے میں بیوی کو باندی اور شوہر کو حاکم بنا دیا جاتا ہے اور بدقسمتی سے اس کو ہم اپنے مذہب اسلام سے بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ اس مقدس رشتے میں اسلام نے مرد کو امیر یعنی گھر کے سربراہ کا درجہ دیا ہے تو اس پر بہت ساری زمہ داریاں اور پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ اور شوہر کو اپنی بیوی سے حسن سلوک کی بھی تاکید کی ہے۔
ہمارے معاشرے کی عورت خود اپنے گھر میں اپنے محرم رشتوں سے محفوظ نہیں کہیں بیٹی باپ کے ظلم اور کہیں بیوی شوہر کے ظلم کا شکار نظر آتی ہے۔ پھر موٹروے پر عورت کی عزت کیسے محفوظ رہے گی۔
ہمارا معاشرہ یا تو بلکل ہی مغربی طرز اختیارکر چکا ہے یا پھر ایک طبقہ بلکل ہی اپنی فرسودہ روایات اور نام نہاد عزت کے لیے اپنی بیوی بہن اور بیٹی کو ظلم کی چکی میں پیس رہا ہے۔
حوّا کی بیٹی آج بھی میرے معاشرے سے اپنے حقوق اور تشخص کی پہچان کے لیے ایک جدوجہد کر رہی ہے۔ بس ایک باہمت اور باکردار عورت ایک مضبوط اور باوقار قوم بنا سکتی ہے۔ عورت کی تذلیل اور اس کے تشخص کی پامالی دراصل اپنے ملک اور قوم کے مستقبل کے ساتھ خیانت اور بےوفائی ہے۔
محمد اشفاق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے