منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو

منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو
اپنی طلب سفر میں کبھی رکھ دیا کرو
جن پر وصالِ یار کا طاری رہے نشہ
وہ حوصلے نہ ڈر میں کبھی رکھ دیا کرو
تاروں بھرے فلک سی، اڑانیں گری ہوئی
بے جاں شکستہ پر میں کبھی رکھ دیا کرو
ممکن ہے اس کو بھی کبھی لے آئے چاند رات
کچھ پھول سونے گھر میں کبھی رکھ دیا کرو
حالات میں پسی ہوئی مجبوریوں کو تم
احباب کی نظر میں کبھی رکھ دیا کرو
پیاسوں کے واسطے یہی نیناں بھرے بھرے
جلتے جھلستے، تھر میں کبھی رکھ دیا کرو
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے