منظر سے اُدھر خواب کی پسپائی سے آگے

منظر سے اُدھر خواب کی پسپائی سے آگے
میں دیکھ رہا ہوں حدِ بینائی سے آگے
یہ قیس کی مسند ہے سو زیبا ہے اُسی کو
ہے عشق سراسر مری دانائی سے آگے
شاید مرے اجداد کو معلوم نہیں تھا
اک باغ ہے اس دشت کی رعنائی سے آگے
سب دیکھ رہی تھی پسِ دیوار تھا جو کچھ
تھی چشمِ تماشائی ، تماشائی سے آگے
اک دن جو یونہی پردۂ افلاک اُٹھایا
برپا تھا تماشا کوئی تنہائی سے آگے
ہم قافیہ پیمائی کے چکر میں پڑے ہیں
ہے صنفِ غزل قافیہ پیمائی سے آگے
دلاور علی آزر 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے