ہریالی کے اتنے رنگ ہیں جتنے رنگ سمندر کے

ہریالی کے اتنے رنگ ہیں جتنے رنگ سمندر کے

روز گجر دم اِس وادی میں باغیچوں کا اک غالیچہ کھلتا ہے

کاہی سے انگوری تک کے تیز اور ہلکے رنگ

لغت میں اِس وادی سے پہنچے ہیں

لیکن پھر بھی

سرخ اور زرد پہاڑوں کی پُر ہیبت عظمت

سبزے کی آرائش سے انکاری ہے

اس کہسار کی ہر اک چوٹی ہریالی سے عاری ہے

یوں لگتا ہے

ایک خطِ سیراب سے اُوپر

برگ و بار کی ہر اک خواہش پتھر ہوتی جاتی ہے

دیکھو

اپنے دل میں دیکھو

ہریالی اک حد سے آگے بنجر ہوتی جاتی ہے

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے