منقبت حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ

منقبت حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ
اﷲ برائے غوثِ اعظم
دے مجھ کو وِلائے غوثِ اعظم
دیدارِ خدا تجھے مبارک
اے محوِ لقائے غوث اعظم
وہ کون کریم صاحبِ جُود
میں کون گدائے غوث اعظم
سوکھی ہوئی کھیتیاں ہری کر
اے ابرِ سخاے غوث اعظم
اُمیدیں نصیب مشکلیں حل
قربان عطائے غوث اعظم
کیا تیزیِ مہرِ حشر سے خوف
ہیں زیرِ لوائے غوث اعظم
وہ اور ہیں جن کو کہیے محتاج
ہم تو ہیں گدائے غوث اعظم
ہیں جانبِ نالۂ غریباں
گوشِ شنوائے غوث اعظم
کیوں ہم کو ستائے نارِ دوزخ
کیوں رد ہو دعائے غوث اعظم
بیگانے بھی ہو گئے یگانے
دل کش ہے ادائے غوث اعظم
آنکھوں میں ہے نور کی تجلی
پھیلی ہے ضیائے غوث اعظم
جو دم میں غنی کرے گدا کو
وہ کیا ہے عطائے غوث اعظم
کیوں حشر کے دن ہو فاش پردہ
ہیں زیرِ قبائے غوث اعظم
آئینۂ رُوئے خوب رویاں
نقشِ کفِ پاےئ غوث اعظم
اے دل نہ ڈر بلاؤں سے اب
وہ آئی صدائے غوث اعظم
اے غم جو ستائے اب تو جانوں
لے دیکھ وہ آئے غوث اعظم
تارِ نفسِ ملائکہ ہے
ہر تارِ قبائے غوث اعظم
سب کھول دے عقدہائے مشکل
اے ناخنِ پائے غوث اعظم
کیا اُن کی ثنا لکھوں حسنؔ میں
جاں باد فدائے غوث اعظم
حسن رضا بریلوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے