مکاں نہیں ہے تو کیا ہے مکین رکھتا ہوں

مکاں نہیں ہے تو کیا ہے مکین رکھتا ہوں
میں تیرے ساتھ رہوں گا یقین رکھتا ہوں
جو آئینہ بھی میں دیکھوں تو رشک آتا ہے
کہ درد چہرے پہ سارے حسین رکھتا ہوں
ہے دوستوں کی ذہانت پہ اتنی حیرت کیوں
ارے میں اپنے عدو بھی ذہین رکھتا ہوں
مجھے ہواوں میں اڑنے کے فائدے نہ بتا
میں اپنے پاوں کے نیچے زمین رکھتا ہوں
وصال یار قیامت تھا جب میسر تھا
مگر فراق بھی عمدہ ترین رکھتا ہوں
نوازتا ہے مرا رب مجھے سدا شاہد
اسی کے در پہ ہمیشہ جبین رکھتا ہوں
شاہد عباس ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے