مکاں کے ہوتے ہوئے بھی جو لامکاں کوئی ہے

مکاں کے ہوتے ہوئے بھی جو لامکاں کوئی ہے
تو پھر یقین و گماں کے بھی درمیاں کوئی ہے
اسے تھا زعم کہ مجھ سا نہیں کہیں کوئی
پھر ایک دن وہی کہنے لگا کہ ہاں، کوئی ہے
نہ زندگی کو نہ خود کو ہی میں سمجھ پایا
سو داستاں کے علاوہ بھی داستاں کوئی ہے
تو بات، بات پہ اپنا بیاں بدلتا ہے
جسے میں آخری سمجھوں، ترا بیاں کوئی ہے؟
تمام دوست مجھے اہلِ علم لگتے ہیں ! .
سمجھ سکے جو مری داستاں یہاں کوئی ہے؟
یہ کیا کہ اب تو ترے خواب تک نہیں آتے
سو فصلِ گل ہے مجھے اب، نہ اب خزاں کوئی ہے
زیاں تو ہوتا ہے لیکن زیاں نہیں لگتا
اب اس سے بڑھ کے بھلا اور بھی زیاں کوئی ہے؟
تمام عمر گزاری ہے امتحاں جیسی
سنا ہے اس کے علاوہ بھی امتحاں کوئی ہے
میں چل کے آگ پہ سب کو دکھا چکا پھر بھی
میں کیا کہوں، اگر اب بھی جو بدگماں کوئی ہے
نجانے وجد میں مجھ سے یہ کون کہہ رہا تھا
جہاں نہیں ہے اگر کوئی بھی ، وہاں کوئی ہے!
صغیر بار ہا میں خود پہ وار کرتا ہوں
مجھے جو مجھ سے بچاتا ہے مہرباں کوئی ہے
صغیر احمد صغیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے