مکافات عمل

مکافات عمل
سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ مکافات عمل کا مطلب کیا ہے مکافات عمل کہتے ہیں عمل کا بدلہ ، عام طور پر یہ لفظ گناہ کے بدلے کے لیے بولا جاتا ہے. محاوراتی طور پر ہم اس کے معنی میں کہہ سکتے ہیں جیسا بوگے ویسا کاٹو گے.
یہ دنیا ایک مکافات عمل کی طرح ہے. گویا یہاں انسان جیسا بیج بوئے گا لازماً آخرت میں ویسا ہی پھل پائے گا. مگر اس دنیا میں بہت سے لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ مل جاتا ہے. چاہے وہ اچھے اعمال ہوں یا برے. اس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن مجید مجید میں اس طرح کیا ہے :
"فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ .وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ".(سورۃ الزلزال : 7,8)
ترجمہ:
"توجس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن بھی کوئی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ۔اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہوگی، وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔”
اگر کوئی کافر کوئی نیکی کرے، جیسے: کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، کسی کو کھانا کھلانا وغیرہ .اگرچہ وہ اللہ پر یقین نہیں رکھتا مگر وہ نیک عمل کررہا ، تو اللہ اس کی اس نیکی کو ضائع نہیں کرتا. اس کی نیکی کا اجر اسے اس دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے .کیوں کہ کفار کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے. مسلمانوں کے لیے تو ایک چھوٹی سی نیکی کا بدلہ بھی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اجر دیا جاتا ہے. دنیا میں اگر نہ مل سکے تو آخرت میں تو ملنا ہی ہے.
بچا کوئی مکافات عمل سے
وہی کاٹے گا جو بوتا رہے گا
جی ! تو بات ہورہی تھی مکافات عمل کی. مکافات عمل میں ایسا ہوتا ہے کہ جو ہم نے کیا وہ لوٹ کر ضرور آتا ہے. اگ ہم نے کسی کے ساتھ اچھائی کی تو ہمارے ساتھ بھی لوگ اچھائی کرتے ہیں. اگر نہ بھی کریں تو اللہ تو بہتر بدلہ دینے والا ہے. اگر ہم کسی کے ساتھ برائی کرتے ہیں تو برائی ہم تک پہنچ ہی جاتی ہے. اس کی مثال کچھ اس طرح ہوسکتی ہے کہ کوئی چیز جس طرح اپنے محور میں گردش کررہی ہو، وہ اپنے مقام پر واپس لوٹ کر آتی ہے. اللہ تعالی نے اس کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا :
"ذٰ لِكَ‌ۚ وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِىَ عَلَيۡهِ لَيَنۡصُرَنَّهُ اللّٰهُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ "۞ (سورۃ الحج :60)
ترجمہ:
"یہ تو ہے ہی ! اور جو شخص بدلہ لے اسی قدر جس قدر اس پر زیادتی کی گئی پھر اس پر مزید زیادتی کی جائے تو اللہ لازماً اس کی مدد کرے گا یقینا اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے.”
حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو چند باتوں کی جب نصیحت کی تو اس میں ایک بات یہ تھی کہ:
"يٰبُنَىَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَكُنۡ فِىۡ صَخۡرَةٍ اَوۡ فِى السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِى الۡاَرۡضِ يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ” (سورۃ لقمان :16)
ترجمہ:
"اے میرے بچے ! اگر وہ (کوئی اچھا یا برا عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ ہو کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین کے اندر اسے اللہ لے آئے گا یقیناً اللہ بہت باریک بین ہرچیز کی خبر رکھنے والا ہے.”
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اپنے غلام کو مار رہے تھے تو بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے آئے فرمایا اے ابن مسعود! تجھے اپنے غلام کی غلطی پر سزا دینے کی جتنی قدرت ہے اللہ کو اس سے زیادہ قدرت تنھ پر ہے. اس بات کو سن کر عبد اللہ ابن مسعود نے اس غلام کو آزاد کردیا.
اب یہ تصویر بھی اس بات کی عکاسی کررہی ہے کہ انسان جیسا کرتا ہے ویسا بھرتا ہے. ایک چکی اپنے محور کے گرد جس طرح گھومتی ہے اسی جگہ پر واپس ضرور آتی ہے .آپ اپنی گندگی کسی اور پر ڈالیں گے تو وہی گندگی آپ پر ضرور واپس آئے گی وہ گندگی کسی بھی صورت میں ہوسکتی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گناہ کیا خود کو بچانے کے لیے الزام کسی اور پر لگادیا تو گویا اپنی گندگی کسی اور پر الٹ دی. اسی طرح اگر آج ہم کسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ایک دن ہم بھی کسی کا نشانہ بن سکتے ہیں اگر ہم کسی پر انگلی اٹھاتے ہیں تو چار انگلیاں خود ہماری طرف اٹھ رہی ہوتی ہیں. خدارا ! ہمیں ہر کام میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیئے کیوں کہ پھر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے.
تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا
دیتے ہیں یہ پیغام خدایانِ ہمالہ (اقبال)
از قلم سیدہ حفظہ احمد
بروز جمعہ
١- جون-۲۰۲۰ ٩
۲٥-شوال -١٤٤١

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے