میں وحشت و جنوں میں تماشا نہیں بنا

میں وحشت و جنوں میں تماشا نہیں بنا
صحرا مرے وجود کا حصہ نہیں بنا
اس بار کوزہ گر کی توجہ تھی اور سمت
ورنہ ہماری خاک سے کیا کیا نہیں بنا
سوئی ہوئی انا مرے آڑے رہی سدا
کوشش کے باوجود بھی کاسہ نہیں بنا
یہ بھی تری شکست نہیں ہے تو اور کیا
جیسا تو چاہتا تھا میں ویسا نہیں بنا
ورنہ ہم ایسے لوگ کہاں ٹھہرتے یہاں
ہم سے فلک کی سمت کا زینہ نہیں بنا
جتنے کمال رنگ تھے سارے لیے گئے
پھر بھی ترے جمال کا نقشہ نہیں بنا
روکا گیا ہے وقت سے پہلے ہی میرا چاک
مجھ کو یہ لگ رہا ہے میں پورا نہیں بنا
احمد خیال

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے