میں نہیں تو کیا؟

میں نہیں تو کیا؟
مرے لیے یہ تکلف، یہ دکھ ،یہ حسرت کیوں
مری نگاہِ طلب، آخری نگاہ نہ تھی
حیات زارِ جہاں کی طویل راہوں میں
ہزار دیدۂ حیراں فسوں بکھیریں گے
ہزار چشم تمنا بنے گی دستِ سوال
نکل کے خلوتِ غم سے نظر اُٹھاؤ تو
وہی شفق ہے، وہی ضو ہے، میں نہیں تو کیا؟
مرے بغیر بھی تم کامیابِ عشرت تھیں
مرے بغیر بھی آباد تھے نشاط کدے
مرے بغیر بھی تم نے دیے جلائے ہیں
مرے بغیر بھی دیکھا ہے ظلمتوں کا نزول
مرے نہ ہونے سے امید کا زیاں کیوں ہو
بڑھی چلو مئے عشرت کا جام چھلکاتی
تمہاری سیج، تمہارے بدن کے پھولوں پر
اسی بہار کا پرتو ہے، میں نہیں تو کیا؟
مرے لیے یہ اداسی، یہ سوگ کیوں آخر
ملیح چہرے پہ گردِ فسردگی کیسی
بہارِ غازہ سے عارض کو تازگی بخشو
علیل آنکھوں میں کاجل لگاؤ رنگ بھرو
سیاہ جوڑے میں کلیوں کی کہکشاں گوندھو
ہزار ہانپتے سینے ہزار کانپتے لب
تمہاری چشمِ توجّہ کے منتظر ہیں ابھی
جلو میں نغمہ و رنگ و بہارو نور لیے
حیات گرمِ تگ و دو ہے، میں نہیں تو کیا
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے