میں خوش نہیں ہوں کہ شب کے مصاحبین کے ساتھ

میں خوش نہیں ہوں کہ شب کے مصاحبین کے ساتھ
گماں بھی جاگ رہے ہیں مرے یقین کے ساتھ
مرا مقام تو آگے تھا ماہ و انجم سے
الجھ گئے ہیں مرے راستے زمین کے ساتھ
میں اس کے جھوٹ پہ سچ کا گمان کر لوں گا
وہ کوئی بات کہے تو سہی یقین کے ساتھ
بجا ہے تیرا مچلنا مگر دل ویراں
کوئی مکاں بھی گیا ہے کبھی مکین کے ساتھ
دکھا رہے ہیں شریعت کے آئینے سب کو
’’فریب کرتے ہیں جو آپ اپنے دین کے ساتھ ‘‘
لہو لہو ہے مرا دل سنبھل کے اے قاتل
چپک نہ جائے کہیں تیری آستین کے ساتھ
سعید خود کو کسی کی نظر سے کیا دیکھوں
میں اپنی ذات میں رہتا ہوں اب یقین کے ساتھ
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے