میں کھیتوں میں کھیرے کی بیلوں پہ

میں کھیتوں میں کھیرے کی بیلوں پہ حیران کھڑا تھا

ہرے پھول کھیروں میں تبدیل ہو کر

بھلے لگ رہے تھے .

میرے لوگ بیلوں سے کھیرے اتارے چلے جا رہے تھے

مگر سبز بیلیں پریشان نہیں تھیں

اچانک مجھے ایک سوکھی ہوئی بیل آواز دینے لگی

جڑی بوٹیاں گھری بیل سے چمپئی بیل لپٹی ہوئی تھی

یہ سوکھی ہوئی بیل کھیتوں میں سب سے ہری تھی

مگر ایک دن اس کو چاہت کے آزار نے کھا لیا

اسے ایک اُڑتی ہوئی بیل اچھی لگی

اشاروں سے اس کو بلایا

اُسے کیا خبر وہ امر بیل تھی

امر بیل کھیتوں میں سب سے ہری بیل پر آ پڑی

اور اس کو گلے سے لگائے ہوۓ چمپئی ہو گئی

جڑی بوٹیاں تلف کرنے سے پہلے

میرے لوگ اس بیل میں کوئی کھیرا نہ پا کر

اُسے مار دیں گے

اگر چھوڑ دی تو امر بیل

ہمزاد بیلوں کو کھا جائے گی

محبت قناعت کی عادی نہیں ہے

فیصل عجمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے