میں اِک شیشہ تھا، پتھر ہو گیا ہوں

میں اِک شیشہ تھا، پتھر ہو گیا ہوں
تعجب ہے کہ کیوں کر ہو گیا ہوں
غبارِ جاں سمٹتا ہی نہیں ہے
میں کیا تھا، کیا بکھر کر ہو گیا ہوں
اتر کر زینۂ خوابِ مقفّل
خود اپنے گھر سے بے گھر ہو گیا ہوں
بچھڑ کر تجھ سے اے رشکِ گلِ تر
خزاں کا خاص منظر ہو گیا ہوں
ترے آنچل کی خوشبو اوڑھ کر میں
مقدر کا سکندر ہو گیا ہوں
چراغِ لمس کی لَو ہی بہت ہے
میں اُن پوروں کو ازبر ہو گیا ہوں
ابھی کچھ دن سنبھلنے میں لگیں گے
مگر پہلے سے بہتر ہو گیا ہوں
میں اُن آنکھوں کا نم پی پی کے خاور
بجائے خود سمندر ہو گیا ہوں
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے