میں خود کی خواہش میں رہنا چاہتی ہوں

میں خود کی خواہش میں رہنا چاہتی ہوں
میں تیری سنگت میں بھی تنہا تھی
میں تیرے ہجر میں بھی اب اکیلی ہوں
بھلے بے مائیگی آزار کی صورت
مری آنکھوں سے رستی رہتی ہے
لیکن تجھے اب چاہنے والا
وہ دل ہی نہ رہا
ورنہ تو سانسوں کے سبھی سُر
آج بھی شاید
تجھے ہم سونپ دیتے
گو کہ حدِ آسماں، حدِ نظر
اب صرف تنہائی ہی ساتھی ہے
مگر
دریا میں لہریں اُلٹی کب چلتی ہیں؟
رستے لوٹ کر واپس ہی کب آتے ہیں؟
اب میں خود کی خواہش میں ہی رہنا چاہتی ہوں
زندگی کو خود ہی جینا چاہتی ہوں۔ ۔ ۔
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے