میلہ ہے بستی میں دو دن

میلہ ہے بستی میں دو دن
میلہ ہے بستی میں دو دن
رات بھی ناچے ، جھومے دن
جھولے والے ، دور دور سے لائے ہیں تہوار
کھٹ مٹھے جذبوں سے مہکا مہکا ہے بازار
شیشے کے صندوق میں،چوڑی والا، خواب سجا کر لایا
اپنی چونچ میں اک طوطے نے ،
جانے کس کا حال دبایا
رس گنے کا ٹپ ٹپ کر کے ،
رستا جائے مشینوں سے
اونٹوں کے کوہانوں پر، موتی کی جھالر ٹنکی ہوئی
سبک قدم میلے کی جانب ،ٹھمک ٹھمک کر چلتے ہیں
دودھیا ناریل جیسا چاند،
اترے گا میدان میں آج
آوازوں کی بین پہ جوگن ،
ناچ ناچ کے ہوگی ماند
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے