ماہِ صفر کے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ

ماہِ صفر کے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ
ہمارے معاشرے میں ہر دور میں عجیب قسم کے قیافہ شناس پائے جاتے رہے ہیں۔ان کا کام لوگوں میں عجیب قسم توہمات پھیلانا ہوتا ہے۔ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی بدولت اکثر باتوں میں ایسی ایسی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں کہ جن کو بندہ سن کر سر پیٹتا رہ جاتا ہے۔سب سے اذیت ناک غلط فہمی وہ ہوتی ہے جو مذہب کے کسی حکم میں پھیلائی جاتی ہے۔مثال کے طور پر یہ صفر کا مہینہ ہے اور اس مہینے کی آمد سے قبل ہر سال لوگ بر ملا یہ کہتے پھرتے ہیں کہ اس میں ستّر ہزار بلائیں اترتی ہیں وہ اپنے ساتھ کئی نحوستیں لاتی ہیں،اس ماہ میں حادثات کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔لوگوں میں ایسی باتوں کے پھیل جانے کی فقط ایک ہی وجہ ہے کہ ہم کسی بات کی ذرا بھر بھی تحقیق نہیں کرتے۔ علماء سے اگر یہ پوچھ لیا جائے کہ قبلہ یہ بات آپ نے کہاں سے بیان کی ہے،اس کا حوالہ کیا ہے؟ تو علماء بھی منبروں پہ بات کرتے ہوئے ہزار بار سوچا کریں گے۔لیکن انھیں بھی پتہ ہے کہ ہم نے اکثر عوام صرف سبحان اللہ پہ لگائی ہوئی ہے۔اور اس سبحان اللہ کے مقام کا تعین بھی ان کی بات نہیں کرتی بلکہ ان کے ہاتھ کے اٹھنے کا مخصوص انداز ہوتا ہے جو عوام کو غیر ارادی طور پر نعرہ لگانے پر مجبورکر دیتا ہے۔ماہ صفر کے ضمن میں احادیث بیان کرنے سے پہلے ایک بات غور طلب ہے اور وہ یہ کہ صفر کے مہینے کا پورا نام اور اس کا معنی سمجھا جائے۔ا س کا پورا نام ہے صفر المظفر۔عربی میں صفر کے لغوی معنی سیٹی بجا کر بلانے کے ہیں اور مظفر (اسم) کے معنی زبردست کامیابی کے ہیں۔
اب ذرا ملا کر اس کے معنی کو پڑھیں تو بنتا ہے کہ سیٹی بجا کر زبردست کامیابی کی طرف بلانا۔اب آپ خود سوچیں کہ جس کے نام کے معنی میں ہی کامیابی کامطلب پوشیدہ ہے وہ منحوس کیسے ہو سکتا ہے۔اب آئیے اپنی اس دلیل کو کچھ احادیث مبارکہ کے زریعے اور مضبوط کرتے ہیں۔بخاری شریف بحوالہ:5707 میں ہے کہ "چھوت لگ جانا،بد شگونی یا اُلّو یا صفر کی نحوست سب لغوخیالات ہیں البتہ جذامی (کوڑھ کا مریض)سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے”۔بخاری شریف بحوالہ:5757 میں ارشاد ہے کہ” چھوت لگ جانا،بد شگونی یا اُلّو یا صفر کی نحوست،یہ کوئی چیز نہیں ہے”۔بخاری شریف بحوالہ:5770 میں ہے کہ "فرمایا کہ چھوت کا لگ جانا،صفر کی نحوست اور اُلّو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ایک دیہاتی نے کہا کہ اے نبیؐ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمک دار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگادیتا ہے۔آپؐ نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی؟ "۔(یعنی آپؐ نے دیہاتی کی اس بات کی نفی فرما دی)۔مسلم شریف بحوالہ:5789 میں ہے کہ "فرمایا کہ کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا،نہ بد فالی کی کوئی حقیقت ہے نہ صفر کی نحوست کی اور نہ کھوپڑی سے اُلّو نکلنے کی”۔ترمذی شریف بحوالہ:2143 میں ہے کہ "فران ہے کہ ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی،رزق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے”۔اسی طرح مشکوۃ شریف بحوالہ:4579 میں آیا کہ "نہ کوئی بیماری متعدی ہے نہ اُلّو منحوس ہے اور نہ ستارہ منحوس ہے اور نہ صفر منحوس ہے”۔مشکوۃ شریف بحوالہ:4580 میں پچھلی حدیث کا متن مبارک ہے۔بس ستارہ کی جگہ بھوت کا ذکر ہے۔اس غلط فہمی کے پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ صفر کے مہینے کو لوگ زمانہ جاہلیت میں اپنی بد اعتقادی کی وجہ سے منحوس جانتے تھے۔صفر کے مہینے سے پہلے تیرہ دن آپؐ بیمار ہوئے،ان ایام کو تیرہ تیزی کہتے ہیں۔عورتیں ان میں شادی بیاہ تک نہیں کرنے دیتیں۔یہ بھی لغو ہے۔ماہ صفر بھی باقی مہینوں کی طرح مہینہ ہے۔عربوں کے اعتقاد کے مطابق صفر کا ایک معنی پیٹ میں پیدا ہونے والا کیڑا ہے۔پیٹ کی بیماری کو صفرا کہتے ہیں۔وہ کیڑا بھوک کے وقت پیدا ہوتا ہے تو تکلیف دیتا ہے۔عرب کیے لوگ اسے متعدی مرض سمجھتے ہیں۔یہ اعتقاد بھی باطل ہے اور اس کی بھی احادیث مبارکہ میں نفی کر دی گئی ہے۔ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں اب بآسانی یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ زمانہ جاہلیت والی باتیں آج بھی ہم میں کسی نہ کسی صورت موجود ہیں جن کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔جہالت کو دور کرنے کا واحد حل تحقیق ہے۔ابھی مندرجہ بالا احادیث کے علاوہ بھی اس ضمن میں دیگر کتب حدیث میں بے شمار احادیث آئی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اور دوسروں کی اصلاح کریں اور ایسے اور بھی باطل نظریات جو ہم میں کسی نہ کسی صورت راسخ ہو چکے ہیں ان سے پیچھا چھڑایا جائے۔علماء کو بھی چاہیے کہ وہ قرآن و احادیث کی روشنی میں معاشرہ کی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ دیں۔
اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے