مگر تم سے کہا کس نے؟

مگر تم سے کہا کس نے؟

کسی نے یہ بتایا ہے
تمہیں کہتے یہ پایا ہے
اُسے مجھ سے محبت ہے
سنو! تم سے کہا کس نے؟
مجھے تم سے محبت ہے
یہ مانا کہ کبھی مجھ کو
فراغت مل نہیں پائی
تری دل گیر سوچوں سے
چلو تسلیم بھی کر لیں
مگر سوچوں کی گہرائی
کسی کو کب نظر آئی؟
کسی نے گر کہا تجھ سے
اکیلے میں مرے لب پر
تمہارا نام رہتا ہے
کبھی یہ بھی کہ تنہائی
میں آنکھیں موند کر تجھ کو
تصور میں بٹھاتی ہوں
تجھے تکتی ہی جاتی ہوں
تو اس کا مت یقین کرنا
بھلا کوئی تصور میں
کسی کے جھانک پایا ہے؟
کوئی تجھ کو کہے آ کر
کہ ان فرقت کے لمحوں میں
کسی یخ بستہ موسم میں
مرے گالوں کے شیشے میں
کسی کا عکس اُترا ہے
سمجھنا جھوٹ ہے یہ بھی
بھلا موسم بدلنے کا
سبب تم ہو بھی سکتے ہو؟
اگر میرے کسی خط میں
کوئی بھی شعر یا مصرع
تجھے مبہم سا معنی دے
تو اس پر غور مت کرنا
کسی محفل میں ہم دونوں
اکٹھے ہوں اگر مدعو
میں چپکے سے تری جانب
نظر اک ڈالنا چاہوں
میری چوری نہ چھپ پائے
تو اتنا سوچ لینا تم
تمہیں دھوکا ہوا ہو گا
بھلا میں تم کو دیکھوں گی؟
مگر تم سے کہا کس نے
’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے