مدھم مدھم

مدھم مدھم

دھیرے دھیرے
صحرا میں سورج کی آڑی ترچھی کرنیں
نالاں، شاکی
اپنے ترچھے سایوں کی پسپائی پر
اب سبک سبک کر
اُؒ لٹے پاؤں چلتے چلتے
دور افق میں ڈوب گئی ہیں
ایک نئی ہلکی ’ ’ سُر لہری‘‘
نرم فضا میں تھر تھر کرتی
جنباں، لرزاں، افتاں، خیزاں
خاموشی کی پرتوں میں نیچے سے اوپر ابھر رہی ہے
مہر بلب ۔۔ پھر سائیں سائیں سرگوشی سی
مِن مِن ، کِن کِن، گلو گیر
شیریں ، زہریلی
ناگ پھنی کا رس امرت
کانوں کو ٹپ ٹپ گھول پلاتی
لوری کی لَے میں اک ’’ٹھاٹ‘‘ سا
قطرہ قطرہ ۔۔صوت کا شربت
زہر سا میٹھا
شہد سا کڑوا
کان گپھا میں ٹپک گیا ہے
سُر کی گت ’اُپ ناس‘ میں الجھی
ناگ پھنی کے کیل کانٹوں سے لیس بدن پر
سرک سرک کر
ناگن کے آگے بڑھنے کے سُر سنگیت سی گونج گئی ہے

مرتے مرتے یہ آلاپ اب
انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!

ستیا پال آنند

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے